متاعِ زیست ہے نیناؔ یہی غربت یہی دولت

متاعِ زیست ہے نیناؔ یہی غربت یہی دولت

کبھی کاسہ ترا لہجہ ، کبھی بخشش تری باتیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آنکھ جیسے کوئی سمندر ہو اور
ہوا یقیں کہ زمیں پر ہے آج چاند گہن
پڑا ہوں میں یہاں اور دل وہیں ہے
الفاظ ہیں خنجر تو بجھا زہر میں لہجہ
میں وہ شاغل ہوں کہ اہل صفا میرے مرید
ہماری زندگی تو مختصر سی اک کہانی تھی
خدا کرے کہ مجھے وقت چھین لے اور تم
کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئے
پوچھا نہیں تھا ہم نے جوانی میں وقت کو
بزرگ رخصت ہوئے ہیں لیکن برآمدے میں