مجملاتِ خَلق کی شرحِ مفصَّل آپ ہیں

مجملاتِ خَلق کی شرحِ مفصَّل آپ ہیں

عالَمِ تکوین میں ذاتِ مکمل آپ ہیں

 

آپ کی تمہید میں تھے آپ سے پہلے نبی

مقصدِ حرفِ سماوی، متنِ مُرسَل آپ ہیں

 

صیغۂ تفضیل نسبت سے ہوا عظمت مآب

خُلقِ احسن، خِلقِ اکمل، خَلقِ اجمل آپ ہیں

 

طلعتیں ہیں حرف کے امکان پر پھیلی ہوئی

طاقِ ادراکِ بشر میں تابِ مشعَل آپ ہیں

 

انبیا آتے رہے ہیں عہدِ نصرت باندھ کر

فیصلہ تو ہو چکا تھا قولِ فیصل آپ ہیں

 

لغزشیں تو ہیں مگر ہے دستِ رحمت کارساز

میری ساری مشکلوں کا ایک ہی حل آپ ہیں

 

نارسائی چھُو نہیں سکتی مرے ایقان کو

عجز کے حرفِ دُعا پر دستِ مقبَل آپ ہیں

 

منظرِ یومِ ابد ہے آپ کا فیضِ عیاں

قدرتِ دستِ ازل کا نقشِ اوّل آپ ہیں

 

حُجرۂ جاں میں فروزاں آپ کی مدحت کے دیپ

دل کے آئینے پہ کندہ اسمِ صیقل آپ ہیں

 

آپ ہیں مقصودؔ و محبوبِ خدائے لم یزل

زیست کے اظہار میں روحِ مسلسل آپ ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ