مجملاتِ خَلق کی شرحِ مفصَّل آپ ہیں

مجملاتِ خَلق کی شرحِ مفصَّل آپ ہیں

عالَمِ تکوین میں ذاتِ مکمل آپ ہیں

 

آپ کی تمہید میں تھے آپ سے پہلے نبی

مقصدِ حرفِ سماوی، متنِ مُرسَل آپ ہیں

 

صیغۂ تفضیل نسبت سے ہوا عظمت مآب

خُلقِ احسن، خِلقِ اکمل، خَلقِ اجمل آپ ہیں

 

طلعتیں ہیں حرف کے امکان پر پھیلی ہوئی

طاقِ ادراکِ بشر میں تابِ مشعَل آپ ہیں

 

انبیا آتے رہے ہیں عہدِ نصرت باندھ کر

فیصلہ تو ہو چکا تھا قولِ فیصل آپ ہیں

 

لغزشیں تو ہیں مگر ہے دستِ رحمت کارساز

میری ساری مشکلوں کا ایک ہی حل آپ ہیں

 

نارسائی چھُو نہیں سکتی مرے ایقان کو

عجز کے حرفِ دُعا پر دستِ مقبَل آپ ہیں

 

منظرِ یومِ ابد ہے آپ کا فیضِ عیاں

قدرتِ دستِ ازل کا نقشِ اوّل آپ ہیں

 

حُجرۂ جاں میں فروزاں آپ کی مدحت کے دیپ

دل کے آئینے پہ کندہ اسمِ صیقل آپ ہیں

 

آپ ہیں مقصودؔ و محبوبِ خدائے لم یزل

زیست کے اظہار میں روحِ مسلسل آپ ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات