مجھے درد ہجر دے کر نہ تو بیقرار کرنا

مجھے درد ہجر دے کر نہ تو بیقرار کرنا

مرے بس کا اب نہیں ہے ترا انتظار کرنا

 

پسِ مرگ اُلجھنوں کا نہ مجھے شکار کرنا

کبھی زُلف کو پریشاں نہ سرِ مزار کرنا

 

میں تری ادا کے قرباں ، یہ ادا بھی کیا ادا ہے

کبھی مجھ سے رُوٹھ جانا ، کبھی مجھ سے پیار کرنا

 

دل و جاں سے مٹنے والو مرا مشورہ ہے تم کو

ذرا سوچ کر کسی پر دل و جاں نثار کرنا

 

مجھے قید کر کے اُس نے کہا مجھ سے یہ قفس میں

نہ غمِ چمن میں رونا ، نہ غمِ بہار کرنا

 

نہ گھٹا سکے الم کو جو بڑھا دے اور غم کو

نہ اب ایسی غمگساری ، مرے غمگسار کرنا

 

جو کرے ہے جھوٹے وعدے ، وہ یقیں دلائے پھر بھی

دلِ نا سمجھ نہ اُس کا کبھی اعتبار کرنا

 

ترا بن سنور کے آںا مجھے یاد کیوں نہ آئے

شب و روز میری خاطر وہ ترا سنگھار کرنا

 

شبِ ہجر کا وہ عالم ، کروں کیا بیان پُرنمؔ

کبھی کروٹیں بدلنا ، کبھی ذکرِ یار کرنا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ