مجھے عزمِ سفر دے دے خُدایا

مجھے عزمِ سفر دے دے خُدایا

مدینہ کی ڈگر دے دے خُدایا

درِ محبوب تک دے دے رسائی

ظفرؔ کو بال و پر دے دے خُدایا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تمنا سروری کی ہے نہ حسرت مال و زر کی
آپؐ کے نُور کی ضیاء کہیے
وہی اللہ کے پیغام بر ہیں
ہمارے رہنما، رہبر محمدؐ
نہ دولت سے ہے، نہ گھر بار سے ہے
گُلوں میں رنگ، خوشبو تازگی ہے
’’ گونج گونج اُٹھّے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں ‘‘
’’پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ ‘‘
’’محبت تمہاری ہے ایمان کی جاں ‘‘
’’درِ احمد پہ اب میری جبیٖں ہے‘‘

اشتہارات