مجھے پائمال تو کر کبھی

مجھے پائمال تو کر کبھی

مجھے یوں نڈھال تو کر کبھی

 

مجھے روزوشب کی سزا نہ دے

مرا کچھ خیال تو کر کبھی

 

تری بے رُخی کی مثال ہوں

مجھے استعمال تو کر کبھی

 

مرا نام لے کے زبان سے

مجھے بے مثال تو کر کبھی

 

تجھے زینؔ شوقِ ہجوم ہے؟

ذرا انتقال تو کر کبھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ