مجھے پائمال تو کر کبھی

مجھے پائمال تو کر کبھی

مجھے یوں نڈھال تو کر کبھی

 

مجھے روزوشب کی سزا نہ دے

مرا کچھ خیال تو کر کبھی

 

تری بے رُخی کی مثال ہوں

مجھے استعمال تو کر کبھی

 

مرا نام لے کے زبان سے

مجھے بے مثال تو کر کبھی

 

تجھے زینؔ شوقِ ہجوم ہے؟

ذرا انتقال تو کر کبھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
تم نے تو یوں بھی مجھے چھوڑ کے جانا تھا ناں؟
ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
اِک ذرہِ حقیر سے کمتر ہے میری ذات
پا یا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر