اردوئے معلیٰ

 

مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا

جو بدل کے رکھ دے نظام کو، دل بے قرار کے شہر کا

 

سبھی تیرے در کے فقیر ہیں، ہو نظر ہمارے بھی حال پر

کوئی چھاؤں ہے، نہ نظام ہے ترے غمگسار کے شہر کا

 

میں ہو مست ذکر حبیب میں، ہے نشہ ہی ایسا فضاؤں میں

ہے قسم خدا کی، میں کیا کہوں، شب گل بہار کے شہر کا

 

ترا دم ہی میرا شعور ہے، مری فکر میں جو کمال ہے

تری شان ہی کا جمال ہے، دل نوبہار کے شہر کا

 

تری جستجو بھی عظیم ہے یہ کرم ہے رب کریم کا

ہے نکھار جو یہ بہار ہے ترے یار غار کے شہر کا

 

مرے دل کی بستی بہار گل، ہے سکون اس میں قرار بھی

مرے دل کی بستی نبی کی ہے، نہیں دور پار کے شہر کا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات