مجھے یقین تھا نکھرے گی شاعری میری

مجھے یقین تھا نکھرے گی شاعری میری

میں چاہتی بھی یہی تھی کہ تم بچھڑ جاؤ

ذرا سی دیر منانا چلو غنیمت ہے

اب اس طرح کا بھی کیا عشق ، پاؤں پڑ جاؤ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ