اردوئے معلیٰ

Search

مجھ کو تو اپنی جاں سے بھی پیارا ہے ان کا نام

شب ہے اگر حیات ، ستارا ہے ان کا نام

 

تنہائی کس طرح مجھے محصور کر سکے

جب میرے دل میں انجمن آرا ہے ان کا نام

 

ہر شخص کے دکھوں کا مداوا ہے ان کی ذات

سب پا شکستگاں کا سہارا ہے ان کا نام

 

بے یاروں ، بے کسوں کا اثاثہ ہے ان کی یاد

بے چارگانِ دہر کا چارا ہے ان کا نام

 

لب وا رہیں تو اسمِ مُحمّد ادا نہ ہو

اظہارِ مدعا کا اشارہ ہے ان کا نام

 

لفظ مُحمّد اصل میں ہے نطق کا جمال

لحنِ خدا نے خود ہی سنوارا ہے ان کا نام

 

قرآن پاک ان پہ اتارا گیا ندیم

اور میں نے اپنے دل پہ اتارا ہے ان کا نام

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ