مجھ کو حیرت ہے کہ میں کیسے حرم تک پہنچا

مجھ کو حیرت ہے کہ میں کیسے حرم تک پہنچا

مجھ سا ناچیز درِ شاہِ امم تک پہنچا

 

ماہ و انجم بھی ہیں جس نقشِ قدم سے روشن

اے خوشا آج میں اس نقشِ قدم تک پہنچا

 

کتنے خوش بخت ہیں ہم لوگ کہ وہ ماہِ تمام

اس اندھیرے میں ہمیں ڈھونڈ کے ہم تک پہنچا

 

(قربان یارسول اللہ آپ کی اس کمالِ کرم نوازی پر)

 

اس کو کیا کہتے ہیں اربابِ خرد سے پوچھو

کیسے اک امی لقب لوح و قلم تک پہنچا

 

راز اس اشکِ ندامت کا کوئی کیا جانے

آنکھ سے چل کے جو دامانِ کرم تک پہنچا

 

نعت کہنے کو قلم جب بھی اٹھایا اقبال

قطرہء خونِ جگر نوکِ قلم تک پہنچا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زینتِ قرآں ہے یہ ارشادِ ربُّ العالمیں
اے قبلۂ مقال مرے، کعبۂ نظر
ترے در پہ آنسو بہانے بہت ہیں
آیا ہے مجھ کو بُلاوا سُوئے شہرِ دلنشیں
مجملاتِ خَلق کی شرحِ مفصَّل آپ ہیں
کُن سے ماقبل کے منظر کی ہے تطبیق الگ
انجامِ طلب ، خواہشِ دیدار ہوا دل
کہتے ہیں سبھی دیکھ کے دربار تمہارا
حل ہے ہر اک مشکل کا
مرے دل میں یونہی تڑپ رہے مری آنکھ میں یونہی نم رہے