اردوئے معلیٰ

Search

مجھ کو حیرت ہے کہ میں کیسے حرم تک پہنچا

مجھ سا ناچیز درِ شاہِ امم تک پہنچا

 

ماہ و انجم بھی ہیں جس نقشِ قدم سے روشن

اے خوشا آج میں اس نقشِ قدم تک پہنچا

 

کتنے خوش بخت ہیں ہم لوگ کہ وہ ماہِ تمام

اس اندھیرے میں ہمیں ڈھونڈ کے ہم تک پہنچا

 

(قربان یارسول اللہ آپ کی اس کمالِ کرم نوازی پر)

 

اس کو کیا کہتے ہیں اربابِ خرد سے پوچھو

کیسے اک امی لقب لوح و قلم تک پہنچا

 

راز اس اشکِ ندامت کا کوئی کیا جانے

آنکھ سے چل کے جو دامانِ کرم تک پہنچا

 

نعت کہنے کو قلم جب بھی اٹھایا اقبال

قطرہء خونِ جگر نوکِ قلم تک پہنچا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ