اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے

مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے

آئینہ وہ دکھاؤ کہ چہرہ دکھائی دے

 

آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر

پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے

 

ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے

کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے

 

ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں

ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے

 

افشاں کسی کسی میں ہی انوارِ فیض ہے

ویسے تو ہرچراغ ہی جلتا دکھائی دے

 

اُن کے ورق ورق پہ ہے نامِ خدا رقم

جن کی کتابِ زندگی سادہ دکھائی دے

 

تمثیل گاہ وقت میں بیٹھے ہیں منتظر

پردہ اُٹھے تو کوئی تماشا دکھائی دے

 

دنیا فریب زارِ نظر ہے عجب ظہیرؔ

آنکھیں نہ ہوں تو خاک بھی سونا دکھائی دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

رائیگاں شعر مرے ، نوحہِ نمناک عبث
آلودۂ عصیاں خود کہ ہے دل، وہ مانعِ عصیاں کیا ہو گا
سنہرے خواب کی لازم نہیں اچھی ہوں تعبیریں
جنونِ تعمیرِ آشیاں میں نگاہ ڈالی تھی طائرانہ
بے خود ہوا ہوں خود بھی مئے لالہ فام سے
دنیائے عمل میں اے غافل! سو جانے میں سب کچھ کھونا ہے
ہزار چھوڑ کے نقش و نگار گزری ہے
اب کے لبوں پہ زرد ، تو آنکھوں میں لال بھر
پسے ہیں دل زیادہ تر حنا سے
محبتوں کے نئے زاویے دکھا رہے تھے