اردوئے معلیٰ

مجھ کو رخ کیا دکھا دیا تو نے

لیمپ گویا جلا دیا تو نے

 

ہم نہ سنتے تھے قصۂ دشمن

ریڈیو پر سنا دیا تو نے

 

میں بھی اے جاں کوئی ہریجن تھا

بزم سے کیوں اٹھا دیا تو نے

 

گا کے محفل میں بے سُرا گانا

مجھ کو رونا سکھا دیا تو نے

 

کیا ہی کہنے ہیں تیرے دیدۂ تر

ایک نلکہ بہا دیا تو نے

 

تیری الفت کی انتہا یہ ہے

رنج بے انتہا دیا تو نے

 

میں نے لیلیٰ بنا دیا تجھ کو

مجھ کو لق لقؔ بنا دیا تو نے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات