مجھ کو کب تھا تیری خدمت تیری طاعت میں دریغ

مجھ کو کب تھا تیری خدمت تیری طاعت میں دریغ

مجھ سے توڑا کیوں تعلق ہائے! او غفلت شعار

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تجھے خبر ہی نہیں نیند سے بھری لڑکی
میرا دشمن چاہتا تھا، فیصلہ جنگل میں ہو
ہمارا بخت ہی ایسا کرخت نکلے گا
یہ زرد شال میں لپٹی ہوئی حسیں لڑکی
ترا معصوم لہجہ کون بھولے ترا تو
لبوں پہ جان ہے اک دم کا اور میہماں ہے
ہم تھے شیشہ مزاج اور دانش
مسلسل حادثوں سے بس مجھے اتنی شکایت ہے
تیری دستار پہ تنقید کی ہمت تو نہیں
زندگی دیکھ تری خاص رعایت ہو گی

اشتہارات