مجھ کو یقیں ہے آئے گی امید بر کبھی

مجھ کو یقیں ہے آئے گی امید بر کبھی

دیکھوں گا میں بھی روضۂ خیر البشر کبھی

 

ہٹتی نہ مجھ سے چاند کی رشکی نظر کبھی

بن جاتا سنگ راہ میں ان کا اگر کبھی

 

بن جاؤں رشک مہر و مہ و نجم آسماں

"​ہوجائے مصطفیٰ کی زیارت اگر کبھی”

 

آقا کی انگلیوں کے اشارے کا تھا کمال

ہوتا اِدھر ہلال تو ہوتا اُدھر کبھی

 

سوچا کہ وصفِ شاہ مدینہ لکھوں مگر

ساکت زباں ‌ہے محو تحیر ہے درک بھی

 

ماں کی دعائیں اس لئے لیتا ہوں ہر گھڑی

ہوتی نہیں ہے ماں کی دعا بے اثر کبھی

 

پہنچیں گے ہم بھی روضۂ سرور پہ ایک دن

دے گی ہماری شاخ طلب بھی ثمر کبھی

 

چہرے پہ مل لے غازۂ خاک در رسول

آنکھیں ملا نہ پائے گا تجھ سے قمر کبھی

 

من کی مرادیں پائے گا روضے پہ ان کے جا

خالی نہیں پھراتے شہ بحر و بر کبھی

 

ہوتا ہے منسلک جو دیار رسول سے

پھرتا نہیں جہان میں وہ در بدر کبھی

 

عاصم تھا رعب ایسا رخ نور بار پر

ان کو کسی نے دیکھا نہیں بھر نظر کبھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نظر نظر کی محبت ادا ادا تھی شفیق
سعادت یہ خیر اُلبشرؐ دیجئے
اے ختمِ رُسل اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے
میں لاکھ برا ٹھہرا، یہ میری حقیقت ہے
تیرا کہنا مان لیں گے اے دلِ دیوانہ ہم​
دار و مدارِ حاضری تیری رضا سے ہے
معجزہ ہے آیہء والنجم کی تفسیر کا ​
قوسِ قزح میں لفظ بنوں نعت میں کہوں
سلام علیک اے نبی مکرم
جب سے ملی ہے حسنِ عقیدت کی روشنی

اشتہارات