محبت برملا ہے یہ اشاروں سے نہیں ہوتی

محبت برملا ہے یہ اشاروں سے نہیں ہوتی

سمندر کیا ہے ؟ آگاہی کناروں سے نہیں ہوتی

 

مری قسمت ہے میرے ہاتھ میں، ہے کون جو بدلے؟

کہ یہ جرات تو خود میرے ستاروں سے نہیں ہوتی

 

کسی اُمت کسی ملت کی اونچائی حقیقت میں

معیاروں سے تو ہوتی ہے مِناروں سے نہیں ہوتی

 

مجھے ان اپنے پیاروں سے کوئی شکوہ نہیں کیونکہ

مجھے کوئی توقع اپنے پیاروں سے نہیں ہوتی

 

نباہے دیر تک جو دشمنی وہ سامنے آئے

ہماری دشمنی بے اعتباروں سے نہیں ہوتی

 

محبت کی ، نباہی، اور دشمن کو عطا کر دی

وہ ہم نے بات کی جو آپ ساروں سے نہیں ہوتی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ