’’محبت تمہاری ہے ایمان کی جاں ‘‘

 

’’محبت تمہاری ہے ایمان کی جاں ‘‘

نہیں جس کے دل میں وہ کیا ہو مسلماں

جو مٹ جائے اُن پر وہی با وفا ہے

’’اگر یہ نہیں ہے تو ایماں ہَوا ہے‘‘

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جس در سے کوئی شاہ و گدا خالی نہ لوٹا
رحمتِ داور، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم
جو لوگ خدا کی ہیں عبادت کرتے
مرے دل کی صدا، حبیبِ خداؐ
صاحبِ حُسن و جمال آیا ہوں
حبیبِ کبریا بن کر شہِ ارض و سما آئے
سرِافلاک تھی سرکارؐ کی جب آمد آمد
یہ محبوبِ خداؐ کا آستاں ہے
یوں نہ بنایا قادرِ مطلق خالق نے ان کا سایہ
’’میرے ہر زخمِ جگر سے یہ نکلتی ہے صدا‘‘