اردوئے معلیٰ

محبت کا وہ بحرِ بیکراں ہیں

وہی اوّل، نبی آخر زماں ہیں

 

اندھیروں میں وہی مینارۂ نور

اُنھی کے نور سے روشن جہاں ہیں

 

وہی ہیں راہبر سب رہبروں کے

وہی قبلہ نمائے گمرہاں ہیں

 

وہی ہیں کارسازِ درد منداں

وہی چارہ گرِ بے چارگاں ہیں

 

وہی عقدہ کشا، حاجت روا بھی

وہی مشکل کشائے بے کساں ہیں

 

وہی ہیں راحتِ جاں عاشقوں کے

مسیحائے ہمہ خستہ دِلاں ہیں

 

کرم فرما ہیں جو اغیار پر بھی

ظفرؔ! وہ دوست دارِ دُشمناں ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات