محبت کی صدا ہے اِسمِ اعظم

محبت کی صدا ہے اِسمِ اعظم

مرے لب پر سدا ہے اسمِ اعظم

مرے دل کی ندا ہے اسمِ اعظم

ظفرؔ اسمِ خدا ہے اسمِ اعظم

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خدائے مہربان نگہِ کرم للّٰہ خدارا
خدا کا فیض جاری ہر جہاں میں
کبھی کوہ و دمن میں کھوجتا ہے
سرورِ قلب و جاں اللہ ہی اللہ
خدا کی قدرتیں ہر سُو عیاں ہیں
خدا کامل مرا، اکمل خدا ہے
کچھ پتھروں کو قیمتی پتھر بنا دیا
مکان ہو کوئی یا لا مکان تیرا ہے
ہم تجھ سے دور اور ترے آس پاس لوگ
ہر لمحہ زہرِ نو کوئی پی کر دکھائے تو