اردوئے معلیٰ

محمد، با خُدا، پیشِ نظر ہے

حبیبِ کبریا پیشِ نظر ہے

 

وہی جلوہ نما، کون و مکاں میں

وہی افلاک پر بھی جلوہ گر ہے

 

اُنھی سے نور کی خیرات لے کر

ہے روشن شمس، تابندہ قمر ہے

 

وہی ہے رہنمائے گمرہاں بھی

وہی سب رہبروں کا راہبر ہے

 

وہی ہے بے سہاروں کا سہارا

وہی بے چارگاں کا چارا گر ہے

 

وہی ہے رحمۃ اللعالمیں بھی

شفاعت کا وہی پیغام بر ہے

 

تجھے سرکار نے جتنا نوازا

ظفرؔ! تُو اِس عطا سے باخبر ہے ؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات