اردوئے معلیٰ

محمد کے پسینے کی مہک ہے

محمد کے پسینے کی مہک ہے

تخیل میں مدینے کی مہک ہے

 

ریاض الجنّہ کی بیٹھک کے لمحات

ترے منبر کے زینے کی مہک ہے

 

مرا دل مستقر حبِ نبی کا

مری سانسوں میں سینے کی مہک ہے

 

وہ دسترخوانِ نعمت جو بچھے ہوں

وہاں قہوے کے پینے کی مہک ہے

 

وہ تیرے شہر میں مرنے کی خواہش

تری مسجد میں جینے کی مہک ہے

 

عقیق و لعل و نیلم وہ وہاں کے

الگ ہر اِک نگینے کی مہک ہے

 

سبھی کچھ ذہن دھندلا تو رہا ہے

مگر تازہ ، سفینے کی مہک ہے

 

بھلائی جا سکی ناں ہم سے اشعرؔ

فضاؤں میں قرینے کی مہک ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ