اردوئے معلیٰ

محمد مصطفیٰ کا آستاں ہے

مدینے میں بہار بے خزاں ہے

 

زمیں جیسے سمٹ کر رہ گئی ہے

مرے سر پر مکمل آسماں ہے

 

محمد مصطفیٰ کا نامِ نامی

سماعت زا ہے اور تنویرِ جاں ہے

 

بہ جز یزداں، محمد کے علاوہ

کوئی رحمت میں اتنا بے کراں ہے؟

 

اولو الابصار اس پر متفق ہیں

محمد ہی تو سرِ کُن فکاں ہے

 

محمد مصطفیٰ اُنظُر اِلَینا

وجودِ رُوحِ اُمّت خُوں چکاں ہے

 

ہماری بے بسی بے چارگی اب

ہمارے ضعفِ دیں کی ترجماں ہے

 

شدائد موسموں کے کھا رہے ہیں

نہ طاقت ہے نہ سر پر سائباں ہے

 

دلِ گستاخ پر یہ لگ رہا ہے

فضائے علم و حکمت بدگماں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات