محمد کے روضے پہ جا کر تو دیکھو

 

محمد کے روضے پہ جا کر تو دیکھو

وہاں سے پلٹ کر پھر آ کر تو دیکھو

 

جو عرشِ بریں پر بلائے گئے تھے

انہیں اپنے دل میں بسا کر تو دیکھو

 

قسم جن اداؤں کی کھاتا ہے اللہ

انہیں تم تصور میں لا کر تو دیکھو

 

وہ عرب و عجم کے ہیں محبوب یکتا

کبھی گیت انکے بھی گا کر تو دیکھو

 

محبت سے بدلا نظامِ حکومت

وہ درسِ اخوت پکا کر تو دیکھو

 

کتابِ الہی جو آقا پہ اتری

متن اسکا جیون میں لا کر تو دیکھو

 

سبب جن کے دنیا بنائی گئی ہے

کبھی ان سے تم دل لگا کر تو دیکھو

 

یقیناً وہ آئیں گے گھر میں تمہارے

درودوں کی محفل سجا کر تو دیکھو

 

شبِ تار سے بھی ملے گی رہائی

خلیل اشک اپنے بہا کر تو دیکھو

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں
ہے یہ میدانِ ثنا گر نہ پڑے منہ کے بل
کیفِ یادِ حبیب زیادہ ہے
(سلام) نورِ چشمِ آمنہ اے ماہِ طلعت السلام
پھر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے
سرِ میدانِ محشر جب مری فردِ عمل نکلی
راگ ہے ’’باگیشری‘‘ کا اور بیاں شانِ رسول
خواب میں کاش کبھی ایسی بھی ساعت پاؤں

اشتہارات