محور

کہ جیسے
زمیں گھومتی رہتی ہے
گرد محور کے اپنے
مِری ذات بھی
ایسے ہی گھومتی ہے
ترے گرد !
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

آتا ہے جب بھی لفظِ محمدؐ اذان میں
ثنأ کی پتّیاں جو پھول ہونا چاہتی ہیں
تری یاد کا نقش گہرا نہیں ہے
دوسری ملاقات
 کرم کے سکے
میں کہاں جائوں تیرے در کے سوا
آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر
شاخ پر بیٹھا اِک پرندہ تھا
کلر بلائنڈ Colour Blind
ترے در کی ہم کو گدائی ملی ہے