محور

کہ جیسے
زمیں گھومتی رہتی ہے
گرد محور کے اپنے
مِری ذات بھی
ایسے ہی گھومتی ہے
ترے گرد !
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تخلیق کا وجود جہاں تک نظر میں ہے
سُن لیا چشمِ تر کی نمی کے سبب
خسارہ بھی اگر ہو منفعت کہنا
کچی عمر کی چاہت
دیوداسی اور پجاری
ہے گذارش میری ذاتِ کبریا کے سامنے
اوجِ صدق و صفا سیّدی مصطفیٰؐ
فضا کا ہول نہ ٹوٹی ہوئی کمان کا ہے
ن‘‘(نون)’’
آپؐ سے میری نسبت مرا فخر ہے

اشتہارات