مدحِ خیر الانام جاری ہے

مدحِ خیر الانام جاری ہے

رات دن فیضِ عام جاری ہے

 

آپ کی شان کے ہیں کیا کہنے

تذکرہ صبح و شام جاری ہے

 

آپ کے در پہ آنا جانا رہے

عرض لب پر مدام جاری ہے

 

پیش کرنے کو کچھ نہیں لیکن

لب پہ میرے سلام جاری ہے

 

جب غلامی میں آ گیا زاہدؔ

اس پہ لطفِ دوام جاری ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ