مدحِ سرکار ہے قرآن کی تائید بھی ہے

مدحِ سرکار ہے قرآن کی تائید بھی ہے

یہ مرا عشق ہے حسان کی تقلید بھی ہے

 

نعت اک عہد ہے اک عہد کی تجدید بھی ہے

روئے قرطاس پہ انوار کی تسوید بھی ہے

 

فردِ اعمال میں اشعار ہیں کچھ مدحت کے

عشقِ سرکار کا دامان میں خورشید بھی ہے

 

نعت اور حمد نہ گڈ مڈ ہوں ذرا دھیان رہے

دونوں کے درمیاں واضح خطِ تحدید بھی ہے

 

سنتِ شاہِ امم پر ہو عمل ہر لمحہ

اتباعِ شہِ کونین کی تاکید بھی ہے

 

شوق سنگِ درِ محبوب کا ہے سینے میں

خواب آنکھوں میں ہے تعبیر کی امید بھی ہے

 

نعت اشفاق دکھاتی ہے رہِ عشقِ نبی

نعت ایمان کی تکمیل بھی تمہید بھی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے
نبی کی نعت نگاری میں زندگی گذرے
چوم آئی ہے ثنا جُھوم کے بابِ توفیق
کبھی رونا کبھی ہنسنا کبھی کچھ التجا کرنا
جذبوں کی حرف گہ کو ذرا مُعتبر کریں
حسن جان و دل نثارے مصطفیٰ کے شہر میں
وہ حسنِ مکمل، پیکرِ الفت، خلقِ مجسم کیا کہئے
جس کو خدا نے اپنا محبوب چن لیا ہے
بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے
جھکا ہوا ہے مرا سر اُٹھا نہیں سکتا

اشتہارات