اردوئے معلیٰ

مدینہ چھوٹتا ہے جب تو کیسا درد ہوتا ہے

مدینہ چھوٹتا ہے جب تو کیسا درد ہوتا ہے

بتا سکتے نہیں اُس کو قلم سے لکھ نہیں سکتے

 

وہ جنت بلکہ جنت سے بھی بڑھ کر روضۂ اقدس

جہاں پر لمحہ لمحہ نور کی برسات ہوتی ہے

 

سنہری جالیاں ، محراب و منبر ایک اک گوشہ

فدا ہوجائے جنت جس پہ ایسی خوش نُما کیاری

 

مؤدّب سبز گنبد کا نظارا کرتے رہنا وہ

مناروں سے نگاہوں کو منور کرتے رہنا وہ

 

مسرّت ہی مسرّت تھی نشاط انگیز ہر لمحہ

ذرا سوچیں تو ہم جیسے خطا کاروں کی یہ قسمت

 

پَے تسلیم آقا ، سرخمیدہ ، با ادب لوگو

مواجہہ کے قریں وہ دست بستہ چُپ کھڑے رہنا

 

ادب کی ایسی جا ہے کہ جہاں آنسو بھی نہ بہنا

ہے روشن حالِ دل جن پر زہے قسمت وہاں تھے ہم

 

جنھیں سب کچھ پتا ہے ہم وہاں کچھ عرض کیا کرتے؟

خموشی ہی زباں بن کر سلامِ شوق کہتی تھی

 

دلوں کو کیف ملتا تھا ، نظر کو نور ملتا تھا

بقیع پاک یعنی خوش نُما جنت نگر لوگو

 

اُحد سا کوہِ جنت اور قُبا کا نوری نظّارا

نگاہوں میں بسے ہیں وہ تو دل میں جاگزیں لوگو

 

بھُلاسکتے نہیں اُن کو ، بھُلا سکتے نہیں اُن کو

گداے در مُشاہدؔ پر کرم فرمائیے آقا

 

گداے در مُشاہدؔ پر کرم فرمائیے آقا

بُلالیجے دوبارہ جلد طیبہ ، عرض کرتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ