مدینہ کا سفر جاری و ساری

مدینہ کا سفر جاری و ساری

تمھاری آج، کل میری ہے باری

 

صحابہؓ کس قدر تھے خوش مقدر

مشرف دید سے تھے عمر ساری

 

سکھائی آپؐ نے بھٹکے ہوؤں کو

مُروّت، حِلم، عجز و غم گساری

 

سبق توحید کا اُنؐ کو پڑھایا

محبت سے سکھائی اُستواری

 

عیاں اُن پر ہوئی عظمت خُدا کی

اُنھوں نے دین پر جاں اپنی واری

 

سنواری زندگی اپنی انھوں نے

انھوں نے آخرت اپنی سنواری

 

ظفر!ؔ وہ زندگی میرا اثاثہ

درِ حضرتؐ پہ جو میں نے گزاری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے
میں پہلے آبِ زم زم سے قلم تطہیر کرتا ہوں​
گل شاہ بحر و بر کا اک ادنیٰ غلام ہے
نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا
ہو اگر مدحِ کفِ پا سے منور کاغذ
جائے گی ہنستی ہوئی خلد میں اُمت اُن کی
خُدا کا خانہ کعبہ دِل کُشا ہے
سمندر آپؐ ہیں فیض و عطا کا
آپؐ قدموں میں جب بٹھاتے ہیں
رنج و آلام جب ستائیں گے