اردوئے معلیٰ

مدینے میں مکاں کی آرزو ہے

مدینے میں مکاں کی آرزو ہے

کہاں میں اور کہاں کی آرزو ہے

 

کرے لازم وہ سیرِ دشتِ طیبہ

جسے باغِ جناں کی آرزو ہے

 

نہ نکلے کچھ بجز صلِّ علٰی کے

مجھے ایسی زباں کی آرزو ہے

 

سبھی ہیں شائقِ روے منور

یہی ہر انس و جاں کی آرزو ہے

 

سرِ محشر ہوں جس کے میر آقا

فقط اس کارواں کی آرزو ہے

 

سخن مقبول ہو حسان جیسا

مجھ ادنیٰ مدح خواں کی آرزو ہے

 

گِنا جاؤں غلامانِ نبی میں

قمرؔ کو کہکشاں کی آرزو ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ