اردوئے معلیٰ

مدینے کی زمیں بھی آسماں ہے

مدینے کی زمیں بھی آسماں ہے

جو ذرہ ہے وہ مہر ضو فشاں ہے

 

خدا کے بعد لے نام محمد

محمد بھی خدا کے درمیاں ہے

 

مدینے کا سفر اور اتنا آساں

نہ جانے کون میر کارواں ہے

 

تمنائے حضوری رکھنے والے

یہ مہجوری بھی شاید امتحاں ہے

 

زیارت گاہ محبوب خدا میں

نظر بیتاب ہے دل شادماں ہے

 

فرشتے ہوں کہ انساں معترف ہیں

محمد تاجدار دو جہاں ہے

 

دو عالم کی حقیقت دیکھتا ہوں

وہ رخ آئینۂ کون و مکاں ہے

 

مرا یہ حال ہے ہجر نبی میں

نفس کی آمد و شد بھی گراں ہے

 

خوشا یہ محفل میلاد حضرت

کہ اس محفل میں ندرتؔ نعت خواں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ