اردوئے معلیٰ

Search

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

مرحبا رنگ ہے کیا سب سے نرالا تیرا

جھوم اٹھا جس نے پیا وصل کا پیالا تیرا

اولیا ڈھونڈتے پھرتے ہیں اجالا تیرا

واہ کیا مرتبہ اے غوث ہے بالا تیرا

اونچے اونچوں کے سروں سے قدم اعلیٰ تیرا

 

جیسے چاہے تری سنتا ہے سناتا ہے تجھے

حسبِ تدبیر سلاتا ہے جگاتا ہے تجھے

اپنی مرضی سے اٹھاتا ہے بٹھاتا ہے تجھے

قسمیں دے دے کے کھلاتا ہے پلاتا ہے تجھے

پیارا اللہ ترا چاہنے والا تیرا

 

بخدا مملکتِ فقر کا تو ناظم ہے

تاجداروں پہ سدا دھاک تری قائم ہے

کیوں نہ راحم ہو کہ اللہ ترا راحم ہے

کیوں نہ قاسم ہو کہ تو ابن ابی قاسم ہے

کیوں نہ قادر ہو کہ مختار ہے بابا تیرا

 

میں کہاں اور کہاں تیرا مقامِ قربت

میری اوقات ہی کیا تھی کہ یہ پاتا رفعت

تیری چوکھٹ نے عطا کی یہ مسلسل عزت

تجھ سے در ، در سے سگ ، سگ سے ہے مجھ کو نسبت

میری گردن میں بھی ہے دور کا ڈورا تیرا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ