مرکزِ عشق و محبت آپ ہیں مولا علی

 

مرکزِ عشق و محبت آپ ہیں مولا علی

بابِ شہرِ علم و حکمت آپ ہیں مولا علی

 

مشکلوں میں جب بھی پڑتا ہے وجودِ آدمی

آپ سے کرتا ہے مِنّت آپ ہیں مولا علی

 

آپ کے روئے منور کی زیارت کا شرف

ہے نگاہوں کی عبادت، آپ ہیں مولا علی

 

آپ کے ہی واسطے سُورج پھِرا اُلٹے قدم

آپ ہیں من جملہ حیرت آپ ہیں مولا علی

 

آپ ہیں مولودِ کعبہ، آپ اخیٔ مصطفیٰ

آپ ہیں سردارِ عترت، آپ ہیں مولا علی

 

آپ کی پیزار کے ذروں کے فیضِ نور سے

پوری ہو منظرؔ کی حاجت، آپ ہیں مولا علی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ