مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے

مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے

مِرے آقا میں جو کچھ بھی ہوں ، سب تیری عنایت ہے

 

کیا جس دم فلک پر چاند کو دو ٹکڑے آقا نے

کہا ایمان والوں نے خدا نے دی یہ عظمت ہے

 

ملی ہے نعت کی توفیق مجھ کو ان کی الفت سے

انہی کی نعت کہتا ہوں اسی سے گھر میں رحمت ہے

 

قضا آئے مدینے میں یہی مانگوں دعا رب سے

مرے مولا عنایت کر یہی تو ایک حسرت ہے

 

سدا اُن کے رہو زاہدؔؔ ، سدا اُن کی ہی مانو تُم

کہ آقا ؐکے غلاموں کا ٹھکانا رب کی جنت ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

زمین جس پہ نبوت کے تاجدار چلے
سرکا رکے جلووں سے معمور نظر رکھئیے
نعت کہنا مری قسمت کرنا
لے چلا مجھ کو طالعِ بیدار
جب بھی نگاہ کی ہے کِسی پر حضور نے
چلے زمِین سے جب آپ لامکاں کے لئے
حسن تمام و لطف سراپا تمہی تو ہو
پائندہ تیرا نور اے شمع حرم رہے
نعلین گاہِ شاہ سے لف کر دیئے گئے
شاداں ہیں دونوں عالم، میلادِ مصطفیٰ پر

اشتہارات