مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے

مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے

مِرے آقا میں جو کچھ بھی ہوں ، سب تیری عنایت ہے

 

کیا جس دم فلک پر چاند کو دو ٹکڑے آقا نے

کہا ایمان والوں نے خدا نے دی یہ عظمت ہے

 

ملی ہے نعت کی توفیق مجھ کو ان کی الفت سے

انہی کی نعت کہتا ہوں اسی سے گھر میں رحمت ہے

 

قضا آئے مدینے میں یہی مانگوں دعا رب سے

مرے مولا عنایت کر یہی تو ایک حسرت ہے

 

سدا اُن کے رہو زاہدؔؔ ، سدا اُن کی ہی مانو تُم

کہ آقا کے غلاموں کا ٹھکانا رب کی جنت ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ