اردوئے معلیٰ

مری تشنہ لبی کی خیر ، ہوگا لُطفِ عام ان کا​

کہ بزم ان کی، شراب ان کی ، صراحی ان کی ، جام ان کا​

 

حرم سے لامکاں تک اُن کے نقشِ پا چمکتے ہیں​

کہ ہے کونین پر سایہ فگن حُسنِ خرام ان کا​

 

زمانے نے ہزاروں ٹھوکروں کے بعد سمجھا ہے​

علاجِ ظلمت ایام ہے بے شک نظام ان کا​

 

جنہیں طیبہ کے جنت زار میں بسنا میسر ہو​

حقیقت میں نماز ان ، سجود ان کا ، قیام ان کا​

 

سنہری جالیوں کو جا کے جو چومے نظر وہ ہے​

تری گلیوں کی خوشبو جن کو مل جائے مشام ان کا​

 

مدینے جا کے جن کی زندگی کی شام ہو جائے​

مبارک اِبتدا اُن کی ، مبارک اِختتام ان کا​

 

مبارک ہو مدینے سے بلاوا آگیا جن کو​

سوئے جنت چلا ہے قافلہ اب گام گام ان کا​

 

میں اپنی آرزو کا ماحصل اب یہ سمجھتا ہوں​

ہے جب تک تابِ گویائی رہے ہونٹوں پہ نام ان کا​

 

اگرچہ عالمِ اسباب میں کچھ بھی نہیں اپنا​

مگر ڈھارس بندھائے ہے ابھی تک لطفِ عام ان کا​

 

نہ جانے کب سےاس امید میں پلکیں نہیں جھپکیں​

کہ بادِ صبح گاہی لے کے آئے گی پیام ان کا​

 

سمجھتا ہوں کہ اُن کے پیار کی دولت بڑی شے ہے​

شہنشاہی کو کب خاطر میں لاتا ہے غلام ان کا​

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات