مری جتنی بھی عزّت ہے

مری جتنی بھی عزّت ہے

شہا تیری بدولت ہے

 

بھلا کیا اختلاف اُن سے

نبی سے جن کی نسبت ہے

 

میں کیسے ہار سکتا ہوں

مجھے اُن کی حمایت ہے

 

مرے لب پر تری مدحت

خدا کی خاص رحمت ہے

 

محمد کے بیانوں میں

صداقت ہی صداقت ہے

 

کہاں میں بے نوا شاعر

کہاں آقا کی عظمت ہے

 

جمالِ خاکِ طیبہ پر

ستاروں کو بھی حیرت ہے

 

اصولِ زندگی لوگو!

مرے آقا کی سیرت ہے

 

کشادہ دل رکھو اپنا

یہی آقا کی سنّت ہے

 

حسینؓ ابنِ علیؓ تیری

ہمیں اب بھی ضرورت ہے

 

نبی کی نعت لکھتا ہوں

قلم بھی با سعادت ہے

 

فدا نعت نبی کہنا

تو بخشش کی ضمانت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ