اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

مری نظر میں تری آرزو نظر آئے

مری نظر میں تری آرزو نظر آئے

مجھے وہ آنکھ عطا کر کہ تو نظر آئے

 

کلام اپنا سمو دے وجود میں ایسا

کہ میری چپ میں تری گفتگو نظر آئے

 

میں جب بھی آئنہ دیکھوں غرورِ ہستی کا

تو ایک عکسِ عدم روبرو نظر آئے

 

ہٹا دے آنکھ سے میری یہ خواہشات کے رنگ

جو چیز جیسی ہے بس ہوبہو نظر آئے

 

ہجوم شہر تماشہ میں گم نہ ہو رستہ

نشان راہ ترا کوبکو نظر آئے

 

رواں دواں رہے جب تک مرا سفینۂ جاں

منارِ نور ہدیٰ چار سو نظر آئے

 

خلوصِ فکر عطا کر اور ایسا حسنِ عمل

کہ فکرِ دنیا تری جستجو نظر آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بہم جو دست و گریباں یہ بھائی بھائی ہے
ہزار زخم دلِ کم نصیب نے جھیلے
آنکھ میں ہی ٹھہر گیا دریا
تیری تصویر اٹھائی ہوئی ہے
مرے نصیب میں محفل کی میزبانی ہے
ذرا جو ہوتی کہیں خواہشِ نمو مجھ میں
وہ مسیحا قبر پر آتا رہا
چراغ نیند کی محراب تک نہیں آیا
اٹھاؤں کیسے میں بارِ گرانِ سجدۂ شوق
موجِ شرابِ عشق پہ ڈولے ہوئے سخن