اردوئے معلیٰ

مری نظر نے ترے سنگِ در کو چوما ہے

 

مری نظر نے ترے سنگِ در کو چوما ہے

وہ مشتِ خاک ہوں جس نے قمر کو چوما ہے

 

زمانہ چوم رہا ہے بڑی عقیدت سے

لبِ حبیب نے جب سے حجر کو چوما ہے

 

جو آنکھ عشقِ محمد میں اشکبار ہوئی

ملائکہ نے اُسی چشمِ تر کو چوما ہے

 

درُود اول و آخر پڑھا گیا جن کے

اُنہی دُعاؤں نے بابِ اثر کو چوما ہے

 

ہو خوش نصیب تمہاری نظر نے اے اشفاقؔ

دیارِ نور کے دیوار و در کو چوما ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ