اردوئے معلیٰ

Search

مری کہانی کے کردار سانس لیتے ہیں

میں سانس لوں تو مرے یار سانس لیتے ہیں

 

ہم ایک دشت میں دیتے ہیں زندگی کی نوید

ہمارے سینے میں آزار سانس لیتے ہیں

 

کبھی تو وقت کی گردش تھکا بھی دیتی ہے

سو تھام کر تری دیوار سانس لیتے ہیں

 

اکھڑنے لگتی ہیں سانسیں الجھ کے سانسوں سے

پھر اس کے بعد لگاتار سانس لیتے ہیں

 

یہ واہمے سے مرے دل میں بے سبب تو نہیں

تری خموشی میں انکار سانس لیتے ہیں

 

خطوط پھٹنے لگے مٹ گئی ہیں تحریریں

سنائی دیتے ہیں افکار سانس لیتے ہیں

 

کہانی کار نے انکار ہی دکھایا ہے

تمام لفظوں میں اظہار سانس لیتے ہیں

 

جو چھو کے دیکھیے تو زندگی نہیں ملتی

زبیر کس لئے بیکار سانس لیتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ