مرے آقاؐ تشریف لائیں گے اِک دِن

مرے آقاؐ تشریف لائیں گے اِک دِن

مرے قلب و جاں میں سمائیں گے اِک دِن

 

میں بے آسرا، بے نوا، دربدر ہوں

مجھے اپنے در پہ بلائیں گے اِک دِن

 

سخی در وہ ایسا ہے جس در سے، مُجھ سے

سگِ در بھی خیرات پائیں گے اِک دِن

 

وہ روضۂ اطہر، وہ محراب و منبر

فقیروں کو آقاؐ دکھائیں گے اِک دِن

 

اُنھیؐ سے میں مانگوں محبت اُنھی کی

مری التجا مان جائیں گے اِک دِن

 

اُتر جائیں گے بحرِ عشق نبیؐ میں

نشاناتِ دوئی مٹائیں گے اِک دِن

 

بوقتِ نزع آپؐ کی دید ہو گی

ظفرؔ! غمزدہ مسکرائیں گے اِک دِن

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حاصل ہوا جو فیض رسول انام کا
کمتر تھا جذب و شوق، کرم بیشتر رہا
جو روشن حلیمہ کا گھر دیکھتے ہیں
نعت پیکر باندھتی ہے اذن کی تاثیر سے
دہر پر نور ہے ، ظلمات نے منہ موڑ لیا
نعتِ پیغمبرؐ لکھوں طاقت کہاں رکھتا ہوں میں
نہ رنج یاد رہے ، سب ملال بھول گئے
سرتاجِ انبیاء ہو شفاعت مدار ہو
خواہشِ دید! کبھی حیطۂ ادراک میں آ
کس درجہ تلفظ آساں ہے معناً بھی نہایت اسعد ہے

اشتہارات