اردوئے معلیٰ

مرے آقا! یہ مجھ پہ آپ کا احسان ہو جائے

یہ عاصی آپ کے دربار کا مہمان ہو جائے

 

مری پوری ہر اک حسرت ہر اک اَرمان ہو جائے

جو میری جان اُن کی آن پر قربان ہو جائے

 

رہے ذکرِ مبارک آپ کا وردِ زباں ہر دم

بروزِ حشر بخشش کا یہی سامان ہو جائے

 

نہیں خالی کوئی جاتا مرے سرکار کے در سے

گدا بھی پائے ان سے بھیک تو سلطان ہو جائے

 

جو چاہے آپ کو مخلوق میں ہر ایک سے بڑھ کر

وہی انسان بے شک کامل الایمان ہو جائے

 

گدائے خواجۂ بطحا مِرا اعزاز ہے آصف

سعادت ہے اگر میری یہی پہچان ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات