مرے رسول تری جس طرف نظر ہوگی

مرے رسول تری جس طرف نظر ہو گی

متاعِ عزت و توقیر بھی ادھر ہوگی

 

مرا طبیب ہے نامِ رسولِ کون و مکاں

وہ اور ہوں گے جنہیں فکرِ چارہ گر ہو گی

 

لحد میں سید خیر الانام آئیں گے

تو پھر ہماری لحد روشنی کا گھر ہوگی

 

جو شہر طیبہ میں بکھری ہے چاندنی کی روا

بلاشبہ یہی گنجینۂ سحر ہو گی

 

نبی و آلِ نبی کا وسیلہ شامل ہے

مجھے یقیں ہے دعا میری با اثر ہو گی

 

درود پاک سے آغاز جو کیا جائے

سخن عظیم ہو ، تحریر معتبر ہو گی

 

پلک جھپکتے ہی جا پہنچوں ان کے پاس ابھی

بلائیں وہ تو کسے فکرِ بال و پر ہو گی

 

مری نگاہ بھی پہنے گی روشنی کا لباس

جو خاک طیبہ مرے آگے جلوہ گر ہو گی

 

سفر حیات کا مشکل نہ ہوگا تجھ کو مجیبؔ

اگر نگاہ میں آقا کی رہگزر ہو گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ