اردوئے معلیٰ

مرے سرور مدینہ ترا نام چل رہا ہے

مرے سرور مدینہ ترا نام چل رہا ہے

ترے نام ہی کے صدقے مرا کام چل رہا ہے

 

ہو اگر نہ تیری مرضی تو بڑھے نہ اک قدم بھی

ترے چاہنے سے دنیا کا نظام چل رہا ہے

 

کسی موڑ پر ہو پوری تری دید کی تمنا

اسی آرزو پہ آقا یہ غلام چل رہا ہے

 

تری رحمتوں کی شمعیں سر عام جل رہی ہیں

ترا تذکرہ جہاں میں سر عام چل رہا ہے

 

ہے ادائے شاہ طیبہ پہ عمل مرا طریقہ

نہ رکوع چل رہا ہے نہ قیام چل رہا ہے

 

ہیں زمانے بھر میں دھومیں مری شاعری کی لیکن

جو ہے مدح شاہ طیبہ وہ کلام چل رہا ہے

 

مرے سامنے مدینے کی چمکتی رہ گزر ہے

کوئی نور میرے پیچھے سر شام چل رہا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ