اردوئے معلیٰ

مرے مولا، مرے خالق ، مرے غفار حاضر ہوں

خطاؤں کا لیے سر پر میں اک انبار حاضر ہوں

 

تو اپنے فضل سے تبدیل قلبِ پر معاصی کر

میں اس کی عادتِ عصیاں سے ہوں لاچار حاضر ہوں

 

طفیلِ مصطفیٰ توفیق دے مجھ کو بھلائی کی

عطا کر صدقۂ ذاتِ شہِ ابرار ،حاضر ہوں

 

مرے ہر اک عمل میں تُو فقط اپنی رضا رکھ دے

ریا کاری سے کر عاری مرا کردار، حاضر ہوں

 

نہیں ہرگز سوا تیرے کوئی معبود میرے رب

عبادت سہل کر مجھ پر، مرے مختار حاضر ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات