اردوئے معلیٰ

Search

 

مرے وردِ لب ہے نبی نبی مرادل مقامِ حبیب ہے

میں مریضِ عشقِ رسول ہوں وہ حبیب میرا طبیب ہے

 

مرا اُس گلی سے رابطہ جہاں سر جھکاتے ہیں انبیاء

جہاں رحمتوں کا نزدل ہے وہ جو عرشِ حق کے قریب ہے

 

میں بڑا امیر و کبیر ہوں شہِ دوسرا کا فقیر ہوں

درِ مصطفیٰ کا اسیر ہوں مرا رفعتوں پہ نصیب ہے

 

میں غم والم میں ہوں مبتلا کوئی کیا کرت=ے گا مری دوا

مرا دو جہاں میں ترے سوا نہین شہا کوئی طبیب ہے

 

وہ بھی خوب دن تھے ملائکہ مرے سامنے تھے جو سرنگوں

وہ مرا عروجِ کمال تھا یہ زوال کتنا عجیب ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ