اردوئے معلیٰ

Search

مزاجِ یار کیوں برہم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

مرا بھی حوصلہ کچھ کم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

 

ضرورت ہوں تو آ کر جلد اپنے خواب لے جانا

کہ پھر برسات کا موسم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

 

بہت شدھ راگ، دھن نایاب اور بیتار تانیں ہیں

یہ کیسی تال ہے، کیا سم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

 

مرے سیدھے سوالوں پر تاسف سے کہا اس نے

تمہاری بات ہی مبہم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

 

نجانے پیڑ کی چیخیں ہیں یا ہے شور آندھی کا

ہوا کا حلقہءِ ماتم ہے میں کچھ کہہ نہیں سکتا

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ