مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے

مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے

سخنور گر یہی فن ہے تو پھر دیوانگی کیا ہے

 

جنون و کرب میں اوہام کو الہام کہتا ہوں

فقط خفقان کا عالم ہے ورنہ شاعری کیا ہے

 

سخن کیا ہے؟ مہذب نام ہے بکواس کرنے کا

معزز طرزِ دریوزہ گری ہے، زندگی کیا ہے

 

تخیل ہے کہ عریاں عالمِ وحشت میں پھرتا ہے

اگر یہ شعر ہیں ، الفاظ کی عصمت دری کیا ہے

 

محبت ایک پردہ ہے ہوس کی شرمگاہوں پر

اگر پرکار چالاکی نہیں تو سادگی کیا ہے

 

وفا اک اسمِ مترادف نہیں ہے کیا تسلط کا

غلامی کی نہیں صورت تو پھر وابستگی کیا ہے

 

فقط اک عامیانہ لطف ہے گھٹیا نمائش کا

عجب تخریب ہے یارو فنِ تخلیق بھی کیا ہے

 

جنوں تاراج کر دیتا ہے ہر نقشِ ملاحت کو

مقابل وحشتیں ہوں تو محبت بیچتی کیا ہے

 

یہ سب عالی بیانی کیا ہے؟ بس اوہام ہیں ناصر

سرِ بازار پر ، اوہام کی اوقات ہی کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جو رہے یوں ہی غم کے مارے ہم
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
یہ کیا کہ جب بھی ملو ، پوچھ کے ، بتا کے ملو
شہرِ بے رنگ میں کب تجھ سا نرالا کوئی ہے
آبرو ئے انتظار ِ عاشقاں جانے کو ہے
کس کی بساط میں ہے رفُو چاکِ شوق کا
متاعِ جان ، تجھی سے بگاڑ بیٹھے ہیں

اشتہارات