اردوئے معلیٰ

مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے

مسلسل ذہن میں ہوئی غارت گری کیا ہے

سخنور گر یہی فن ہے تو پھر دیوانگی کیا ہے

 

جنون و کرب میں اوہام کو الہام کہتا ہوں

فقط خفقان کا عالم ہے ورنہ شاعری کیا ہے

 

سخن کیا ہے؟ مہذب نام ہے بکواس کرنے کا

معزز طرزِ دریوزہ گری ہے، زندگی کیا ہے

 

تخیل ہے کہ عریاں عالمِ وحشت میں پھرتا ہے

اگر یہ شعر ہیں ، الفاظ کی عصمت دری کیا ہے

 

محبت ایک پردہ ہے ہوس کی شرمگاہوں پر

اگر پرکار چالاکی نہیں تو سادگی کیا ہے

 

وفا اک اسمِ مترادف نہیں ہے کیا تسلط کا

غلامی کی نہیں صورت تو پھر وابستگی کیا ہے

 

فقط اک عامیانہ لطف ہے گھٹیا نمائش کا

عجب تخریب ہے یارو فنِ تخلیق بھی کیا ہے

 

جنوں تاراج کر دیتا ہے ہر نقشِ ملاحت کو

مقابل وحشتیں ہوں تو محبت بیچتی کیا ہے

 

یہ سب عالی بیانی کیا ہے؟ بس اوہام ہیں ناصر

سرِ بازار پر ، اوہام کی اوقات ہی کیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ