مشت برابر جیون اندر،جنم جنم کے روگ

مشت برابر جیون اندر، جنم جنم کے روگ

جانے کیسے جیتے ہوں گے، سُکھ کے اندر لوگ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گزر رہی ہے تری یاد کی حضوری میں
کیا مرے دکھ کی دوا لکھو گے
دکھ تماشا لگائے رکھتا ہے
ترے بِن گھڑیاں گِنی ھیں رات دن
خموشیوں کی زباں بھی سمجھنا ہو گی اُسے
کیے ہجّے ، پڑھی میں نے محبت
یہ اور بات غلامی قبول کی تیری
رسم الٹی ہے خوب رویوں کی
کیوں نہ تنویر پھر اظہار کی جرآت کیجیے
رات کوچۂ جاں میں اس قدر اداسی تھی

اشتہارات