اردوئے معلیٰ

Search

مشقِ بال و پر کی خاطر گنبدِ بے در دیا

پھوڑنے کے واسطے گویا کہ مجھ کو سر دیا

 

وحشتیں بخشی گئی مد و جزر کی عشق کو

حسن کو ماہِ مکمل سا تبھی پیکر دیا

 

وقت کی زنجیر کی کڑیاں ہیں کیوں ٹوٹی ہوئی

حذف کاتب نے نہ جانے عمر سے کیا کر دیا

 

کوئی گنجائش نہیں چھوڑی کسی تعبیر کی

عشق نے خوابوں سے یوں دامانِ دل کو بھر دیا

 

اس نے جانا تھا بھلے وہ روند کر جاتا مجھے

یہ تو میں ہی جانتا ہوں راستہ کیونکر دیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ