مشہور و معروف شاعرہ اداؔ جعفری کا یوم پیدائش

آج مشہور و معروف شاعرہ اداؔ جعفری کا یوم پیدائش ہے۔

ایک لڑکی 22 اگست 1926ء کو بدایوں میں ایک بڑے زمیندار کی حویلی میں پیدا ہوئی۔نام عزیز جہاں رکھا گیا۔باپ مولوی بدرالحسن خاندانی وڈیرہ تھا۔ساتھ ہی پکا مسلمان بھی۔گھر میں نوابی ٹاٹھ اور اسلامی رنگ یوں ملے جلے تھی جیسے مالٹے میں کھٹاس اور مٹھاس ملے جلے ہوں۔
باہر خاندانی رکھ رکھاؤ اور روایت کے سوا کوئی پابندی نہیں ۔اندر بند بندھا ہوا تھا۔باہر آرام دہ زندگی تھی۔اندر بے چینی ہی بے چینی۔باہر حکومت تھی دبدبہ تھا۔اندر خوف منہ پھاڑے بیٹھا تھا۔بے نام خوف بے مقصد جھجک۔باہر چہل پہل تھی اندرتنہائی۔باہر آوازوں کا میلہ لگا ہوا تھا اندر خلا سی چپ۔
اس لڑکی کی نفسیات کے تین جزواعظم تھے۔گونگی،تنہا،سہمی ہوئی۔
جس طرح تار اور لرزش مل جائیں تو سر پیدا ہوتی ہے اسی طرح گونگا پن اور تنہائی مل جائیں تو شعر رسنے لگتے ہیں۔
اداؔ کی بدقسمتی یہ تھی کہ قدرت کی طرف سے شعر و سخن کی صلاحتیں نہیں ملی تھیں بلکہ اسے گھڑی گھڑائی بنی بنائی شاعرہ بنا کر پیدا کیا گیا تھا۔فن قدرت کی ایک ایسی دین ہے جو بیک وقت رحمت بھی ہے اور عذاب بھی۔فن کی جھاڑی پر جب تک پھول پتیاں نہیں پھوٹتیں مسلسل عذاب رہتا ہے۔جب پھول لگتا ہے تو دوآتشہ ہو جاتا ہے۔
اداؔ کا بچپن کرب ناک تھا۔بظاہر سب ہی کچھ حاصل تھا۔بہ باطن بے چینی اور ویرانی تھی۔خوش گوار ماحول سے اکتاہٹ تھی۔ہجوم سے گھبراہٹ تھی۔کوئی کھیل اچھا نہ لگتا تھا۔کوئی تفریح جاذب نظر نہ تھی۔بچپن مسلسل رو رو کڑ کاٹا۔یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کیوں روتی ہوں۔کیوں اداس ہوں کیوں اکتائی ہوئی ہوں۔
بچپن ہی سے والد سے محبت لگا بیٹھی۔اسے دیوتا بنا لیا۔بن بتاۓ چپ چاپ آرتی میں پھول سجا کر بیٹھ گئی۔یہ فادر فکیشن شاید اس لیے ضروری تھا کہ اداؔ کی نفسیات کی تین خصوصیات کو ایک رخ دے کر شعر و سخن کی آمد کا راستہ ہموار کیا جاۓ۔
جب وہ تین سال کی تھی تو باپ وفات پا گۓ۔ اداؔ پہ یہ راز کھولا نہ گیا۔اس سے کہہ دیا گیا کہ والد بیمار ہیں اور علاج معلجے کے لیے باہر گۓ ہوۓ ہیں۔سلہا سال اداؔ والد کا انتظار کرتی رہی روتی رہی دعائیں مانگتی رہی کہ ابا لوٹیں اور میں ابا کہہ کر بلانے کی خوشی حاصل کر سکوں۔ان دنوں اسے سب سے بڑا دکھ یہ تھا کہ کوئی ہو جسے ابا کہہ کر بلایا جا سکے۔پھر والدہ کو شاید ترس آ گیا۔لڑکی کو باپ کی قبر پر لے گئیں۔اسے سمجھایا کہ والد وفات پا چکے ہیں واپس نہیں آئیں گے کبھی نہیں۔ دکھ ہوا۔لیکن انتظار کی گھڑیاں گننے سے مخلصی حاصل ہوئی۔قید سے رہائی مل گئی۔
والد کی وفات کے بعد بھی اداؔ اپنے نانا کی حویلی میں پرورش پاتی رہی۔اس کے خاندان میں روایت تھی کہ شادی کے بعد لڑکی کی رخصتی نہیں کی جاتی تھی۔دولہا گھر جوائی کی حیثیت سے رہتا تھا۔
خاندان کی روایت کے مطابق لڑکی کو مکتب میں نہیں بھیجا جاتا تھا۔ تھوڑی سی تعلیم گھر پر ہی دلوا دی جاتی۔والدہ نے اداؔ کی توجہ کتابوں کی طرف مبذول کر دی حصل تعلیم سے پہلئ اندر کی چمبے کی بوٹی نے سر اٹھایا اور جان لبوں تے آئی ہو۔9 سال کی عمر میں پہلی نظم "پکار” یوں باہر نکلی جیسے بچے کا پہلا دانت باہر نکلتا ہے۔12 سال کی عمر میں اداؔ چھپنے لگی۔چھپنے کی خواہش نہ تھی پبلسٹی سے خائف تھی اور رہی۔
ظاہر ہے کہ اداؔ کے پاس اس عمر میں کچھ بھی نہ تھا نہ مطالعہ نہ تجربہ کھاتے پیتے نوابی گھر میں مطالعہ کی نہ حاجت تھی نہ اہمیت۔گونگے اور اکیلے پن نے بیرونی دنیا سے رابطہ قائم نہ ہونے دیا۔لٰہذا مشاہدہ اور تجربہ کا امکان ہی نہ رہا تھا۔اداؔ کے پاس لے دے کے ایک ریسور تھا،پتہ نہیں بولنے والے سرے پر کون تھا۔ کوئی تھا جس کا پیغام موصول کرنے پر اداؔ مجبور تھی۔جس طرح انڈہ دینے کے وقت مرغی کونے تلاش کرتی ہے اور بالاخر صندوق کے نیچے جا بیٹھتی ہے اسی طرح اداؔ کونے تلاش تلاش کرنے پر مجبور ہوتی۔اس نے سٹور روم میں صندوقوں کے اوپر ایک کونا بنا رکھا تھا وہاں بیٹھ کر لکھتی ۔اس پیغام وصولی میں کوئی ترتیب نہ ہوتی تھی۔لیکن احساس ضرور ہوتا تھا کہ یہ مصرع پہلا نہیں آخری ہے۔
جوں جوں وقت گذرتا گیا مطالعہ کا جنون بڑھتا گیا۔والدہ نے سکول بھی بھیجا لیکن جلد ہی اٹھا لیا۔پھر ایک ٹیوٹر رکھ دیا۔پرائیویٹ طور پر میٹرک کیا۔ایف اے کا کورس بھی گھر پر ہی پڑھا۔
منجھلی بہن کے میاں جمال احمد رضوی سے بہت متاثر تھی۔رضوی نے کتابوں کے چناؤ اور حصول میں بہت مدد کی۔کتابوں کے سوا زندگی میں اور کوئی مشغلہ نہ تھا۔ گھر کے کام کاج سے قطعی دلچسپی نہ تھی۔نہ سوئی نہ سلائی۔کھانا پکانا شادی کے بعد میاں کے گھر میں سیکھا۔جب کتابیں ہی اوڑھنا بچھونا ہوں تو امکان غالب ہوتا ہے کہ زندگی کتابی بن کر رہ جاۓ۔علم کی عظمت سے انکار نہیں لیکن اگر زندگی سے بے تعلق ہو تو افریت پن بن جاتا ہے۔بنا دیتا ہے۔اداؔ کے زندگی سے بے تعلق ہونے کے باوجود مسلسل مطالعہ اسے کتابی نہ بنا سکا علم افریت نہ بنا سکا۔ریسیور کے دوسرے سرے سے تازہ ہوا آتی رہی۔بانسری میں پھونک بھرتی رہی تاروں میں لرزش روں دواں رہی نغمہ پیدا ہوتا رہا۔ اداؔ لکھتی رہی موضوع صرف ایک شعر و سخن یا تو شعر کہتی اور یا شاعری پر تنقیدی مضامین لکھتی۔21 سال تک اداؔ کی زندگی سپاٹ رہی۔
ازلی طور پر اس میں محبت کے جذبے کی فراوانی تھی ۔شدت کی محبت نہیں۔ مدھم محبت سے یوں سرشار تھی۔جیسے گنا رس سے بھرا ہوتا ہے۔پہلے محبت والد پر مرکوز ہو گئی۔ان کے انتقال کے بعد اس کا رخ بچوں کی جانب مڑ گیا۔اسے بچے بہت پیارے لگتے تھے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو شاید شادی اس کے لیے کبھی قابل قبول نہ ہوتی۔اکیلی۔تنہا،ڈری ہوئی سہمی ہوئی بے زبان گونگی شخصیت کے لیے شادی کا خٰال ہی سوہان روح ہو جاتا ۔
1947ء میں اس کی شادی طے ہو گئی اور وہ اداؔ بدایونی سے ادا جعفری بن گئی۔
اس شادی کی کامیابی کے امکانات بہت کم تھے۔نہیں کم نہیں ۔سرے سے تھے ہی نہیں۔
اس ازداجی بہلی میں جو دو پہیۓ لگے وہ ہم آہنگ نہیں تھے۔ایک گول تھا دوسرا چوکور۔میاں خارجی علوم سے آراستہ تھے بیوی کے پاس تاروں کی رم جھم کے سوا کچھ نہ تھا۔میاں حقیقت پسند تھے۔ بیوی خوابوں کی دنیا کی باسی تھی میاں خاندانی رکھ رکھاؤ کے دلداہ۔بیوی خاندانی رکھ رکھاؤ سے بیزار تھی۔میاں بیوروکریٹ تھے بیوی کے لۓ یہ امر ایک رکاوٹ تھی۔حیرت ہے کہ یہ شادی کیسے کامیاب ہو گئی۔ اس شادی کی کامیابی کے لیے اداؔ کے پاس صرف ایک چیز تھی۔مدھم محبت کی مسلسل لرزشیں۔جعفری کی نسبی اور ذاتی شرافت نے اس شادی کو کندھا دیۓ رکھا۔ اس کامیابی پر دونوں ہی وکٹوریہ کراس کے مستحق ہیں۔اس ظاہری کامیابی کے باوجود۔اداؔ میں کوئی فرق نہیں آیا۔وہ وہی اداؔ رہی۔اکیلی تنہا گونگی۔ادھر سے ان جانی چھیڑ ادھر تاریں ہی تاریں۔میاں اس نظر سے اوجھل راز کو نہ سمجھے۔انہوں نے اداؔ کی شخصیت کے اس پہلو کو نہ سمجھا نہ قبول کیا بچے بڑے ہوۓ تو وہ بے گانہ رہے۔
اداؔ نے مجبوراۤ اس رستے بستے گھر میں الگ سے ایک خفیہ گوشہ بنا لیا جہاں بیٹھ کر وہ انجانے شام مراری کی بانسری سنتی۔سر دھنتی اور گھر والے حیران ہوتے کہ سدھ کس نے بسرائی۔یہ مستی کہاں سے آئی۔شادی کے بعد اداؔ نے ایک کام ضرور کیا اس ڈر کے مارے کہ کہیں چوری نہ کھل جاۓ۔خود کو چھپانے کے لیے خود کے گرد احتیاط کا دبیز جالا بن کر وہ خاتون تخلیق کر لی جو جعفری کے گھر میں بیگم بنی بیٹھی رہی۔
اداؔ کے لکھنے کے کوائف وہی پرانے تھے پہلے سٹور روم میں ٹرنکوں کے اوپر کونے میں بیٹھ کر لکھتی تھی میاں کے گھر اب وہ کونا الگ نہیں لیکن الگ رہا۔ڈیڑھ اینٹ دکھائی نہیں دیتی تھی لیکن مسجد جوں کی توں قائم رہی۔
شادی کے بعد 1948ء میں اداؔ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا لیکن اس کی زندگی نے وفا نہ کی۔اداؔ کو اتنا صدمہ ہوا کہ رواں رواں ہو کر رہ گئی تھی۔دو سال کمیونیکیشن کا سلسلہ بند رہا۔دو سال کے بعد بیٹی پیدا ہوئی۔ممتا جاگی۔یوں جیسے بوتل سے جن نکلتا ہے۔دو سال ماں نے شعر کہنے نہ دیا۔کوشش بہت کی لیکن بے کار رابطہ بحال نہ ہوا۔
پھر جعفری کے بھائی ضیاء الدین عباسی کی شہادت کی خبر آئی تو نہ جانے کیا ہوا۔دفعتاۤ زنگ آلود تاروں میں لرزش پیدا ہوئی۔رابطہ بندھا ،میرے شہید کی تخلیق ہوئی۔اس 007 کا بھید نہیں کھلتا کون جانے کن حالات میں بولے کن حالات میں چپ سادھ لے۔
جب وہ زیر لبی جاری کرتا ہے اور تخلیق عمل میں آتی ہے تو ایک عجیب سی سرشاری چھا جاتی ہے لیکن عجیب بات یہ ہے کی اداؔ کو اپنا کلام سنانے سے دلچسپی نہیں تھی۔حالانکہ عام طور پر شاعر کے لیے کلام سنانا ایک مجبوری ہوتی ہے۔ایسی مجبوری جو زچ کر کے رکھ دیتی ہے،لیکن اداؔ اس مجبوری سے آزاد تھی۔بے نیاز ہے اسے تخلیق کی سرشاری سے تعلق تھا۔سنانا لازم نہیں ۔کوئی داد دے نہ دے اس کے لیے چنداں فرق نہیں پڑتا تھا۔الٹا پبلسیٹی سے وہ بہت خائف رہتی تھیں۔بچپن میں وہ اکثر خواب دیکھا کرتی تھی۔دیکھتی کہ وہ اللہ کے حضور سر نواۓ بادب کھڑی ہے۔دفعتاۤ اللہ میاں کی گرج دار آواز آتی لڑکی تو کس سے ملنا چاہے گی۔گھبرا جاتی کہتی اللہ حضور مجھے غالب سے ملوا دیجیۓ۔حافظ سے ملوا دیجیۓ۔مولانا رومی سے ملوا دیجیۓ۔
ممتاز مفتی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر آخر جمعہ کے روز 13 مارچ 2015ء کو قبرستان کے ایک کونے میں جا بسی ۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منتخب کلام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

آئے تو سہی، برسر الزام ہی آئے

حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غنچے

خوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے

تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنا

مقدور نہیں صبح، چلو شام ہی آئے

کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سے

جس رہ سے چلے، تیرے درو بام ہی آئے

تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمنا

کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے

باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کی

دل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ڈھلکے ڈھلکے آنسو ڈھلکے

چھلکے چھلکے ساغر چھلکے

دل کے تقاضے، اُن کے اشارے

بوجھل بوجھل، ہلکے ہلکے

دیکھو دیکھو دامن اُلجھا

ٹھہرو ٹھہرو ساغر چھلکے

اُن کا تغافل اُن کی توجّہ

اِک دل اُس پر لاکھ تہلکے

اُن کی تمنّا، اُن کی محبّت

دیکھو سنبھل کے دیکھو سنبھل کے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ہرشخص پریشان سا حیراں سا لگے ہے

سائے کو بھی دیکھوں تو گریزاں سا لگے ہے

کیا آس تھی دل کو کہ ابھی تک نہیں ٹوٹی

جھونکا بھی ہوا کا ہمیں مہماں سا لگے ہے

خوشبو کا یہ انداز بہاروں میں نہیں تھا

پردے میں صبا کے کوئی ارماں سا لگے ہے

سونپی گئی ہر دولتِ بیدار اسی کو

یہ دل جو ہمیں آج بھی ناداں سا لگے ہے

آنچل کا جو تھا رنگ وہ پلکوں پہ رچا ہے

صحرا میری آنکھوں کو گلستاں سا لگے ہے

پندار نے ہر بار نیا دیپ جلایا

جو چوٹ بھی کھائی ہے وہ احساں سا لگے ہے

ہر عہد نے لکھی ہے میرے غم کی کہانی

ہر شہر میرے خواب کا عنواں سا لگے ہے

تجھ کو بھی ادا جرأتِ گفتار ملی ہے

تو بھی تو مجھے حرفِ پریشاں سا لگے ہے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

یہی نہیں کہ زخم ِ جاں کو چارہ جُو ملا نہیں

یہ حال تھا کہ دل کو اسمِ آرزو ملا نہیں

ابھی تلک جو خواب تھے چراغ تھے گلاب تھے

وہ رہگزر کوئی نہ تھی کہ جس پہ تو ملا نہیں

تمام عمر کی مسافتوں کے بعد ہی کھلا

کبھی کبھی وہ پاس تھا جو چار سو ملا نہیں

وہ جیسے ایک خیال تھا جو زندگی پہ چھا گیا

رفاقتیں تھیں اور یوں کہ روبرو ملا نہیں

تمام آئینوں میں عکس تھے مری نگاہ کے

بھری نگر میں ایک بھی مجھے عدو ملا نہیں

وارثوں کے ہاتھ میں جو اک کتاب تھی ملی

کتاب میں جو حرف ہے ستارہ خُو ملا نہیں

وہ کیسی آس تھی ادا جو کو بکو لیے پھری

وہ کچھ تو تھا جو دل کو آج تک کبھو ملا نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ فخر تو حاصل ہے بُرے ہیں کہ بھلے ہیں

دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں

جلنا تو چراغوں کا مقدر ہے ازل سے

یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نہ جلے ہیں

تھے کتنے ستارے کہ سرِ شام ہی ڈوبے

ہنگامہِ سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں

جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور

تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں

ایک شمع بجھائی تو کئی اور جلا لیں

ہم گردش ِ دوراں سے بڑی چال چلے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

شاعر پروفیسر سید مجتبیٰ حسین کا یوم پیدائش
یوروپین شاعر جان محمد آزاد کا یوم وفات
اردو اور پنجابی زبان کے معروف شاعر اسلم کولسری کا یوم پیدائش
معروف شاعر اور ادیب محسنؔ زیدی کا یومِ وفات
شاعر اور انشائیہ نگار ڈاکٹر وزیر آغا کا یومِ وفات
اردو کے صاحب طرز شاعر 'شاعر لکھنوی' کا یوم وفات
مولانا جلال الدین رومی کا یومِ پیدائش
ممتاز شاعر مصطفٰی زیدیؔ کا یومِ پیدائش
نامور شاعر اور ناول نگار مرزا محمد ہادی رسوا کا یوم وفات
شاعر محمد حسن نجمی سکندرپوری کا یومِ پیدائش