اردوئے معلیٰ

Search
مصحفِ ثنا: درد و سوز کی آب جُو
حضرت علامہ سید ریاض حسین شاہ زید مجدہٗ
نعتیہ ادب عقیدت کی گہرائی سے پھوٹتا ہے۔ خورشیدِ محبت سے امڈتی بکھرتی جذبات کی حیات بخش کرنیں اس کی نشوو نما کرتی ہیں۔ پاکیزہ تصوّرات اس کی رونمائی کرتے ہیں۔ بے تاب حروف حقیقتوں کے پیکر تراشتے ہیں۔ انسان اگر جنتِ نعت میں اپنے حصے کا مقدر پالے تو پھر ایک شاعرِ حزیں کو حضور ی نصیب ہو جاتی ہے۔ یہیں سے بے نوائی کو نوائے شوق کی منزل نصیب ہوتی ہے۔ اور وہ بارگاہِ حق سے توفیقّ ثنا گوئی پا جاتا ہے۔ خوش بخت ہیں وہ زبانیں جو مدحتِ شاہِ خوباں کے موتی رولتی ہیں۔ بابرکت ہیں وہ قلم جن کی روشنائی سے ثنائے خواجۂ گیہاں کے رنگا رنگ نقش ابھرتے ہیں اور سعادت مند ہیں وہ شعراء جن کے زبان و قلم وقفِ ثنائے حبیب رہتے ہیں۔
انہی خوش نصیب، اربابِ توفیق، مدحتِ گراں پیغمبر میں ایک خوبصورت نام ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نوری کا بھی ہے۔
جنھیں میں ان کے عنفوانِ شباب سے جانتا ہوں۔ وہ میرے عزیز تلمیذ بند ہیں۔ انھوں نے مجھ سے تفسیر قرآن پڑھی ہے۔
اگر نعتیہ ادب کے محرّکاتِ قدس میں عقیدت و عشقِ رسول محبت و مؤدتِ نبی اور ادب و احترامِ پیمبر شامل ہیں تو ظفر اقبال نوری کو یہ دولتِ سرمدی اوائلِ عمر ہی سے عطا کر دی گئی تھی اسی دور کا ان کا ایک شعر اب بھی مجھے خوشگوار لگتا ہے:
——
سانسیں پڑھیں سلام، پڑھیں دھڑکنیں درود
حاصل مجھے وہ لذّتِ عشقِ رسول ہو
——
حضور صاحبِ محامد کثیرہ سے محبت کرنا، آپ کی سیرت کی جستجو کرنا، آپ کے میلانات اپنانا، آپ کی حیاتِ نور کو سمجھنا آپ کی دعوتِ کریمانہ کو سننا، آپ کے ایک ایک عمل کو محفوظ کرنا، اور آپ کے علمی و دینی سرمایہ کو اگلی نسلوں کی طرف منتقل کرنا تقاضائے شریعت ہے۔ اور یہ سب کچھ نعت کا موضوع ہے۔ اس لحاظ سے نعت کہنا، نعت سننا، نعت پسند کرنا شریعتِ مطہرہ کا اولین مقصود ہے، اور قرآنِ مجید نعتِ رسول کا ایک انمٹ اور لازوال نقش ہے۔ اسی مناسبت سے ظفر اقبال نوری کا اپنے سرمایۂ زیست مجموعۂ نعوت کو مصحفِ ثنا کا نام دینا بہت بھلا لگا۔ حُبِّ رسول کو خوشبوؤں سے مہکتا، معطّر و مطّہر مجموعۂ نعت ’’ مصحفِ ثنا‘‘ پڑھ کر میں بہت محظوظ ہوا ہوں۔ اس کے کلماتِ حکمت، الفاظِ محبت اور حروفِ طیب بہت بلند ہیں۔ اس گنجینۂ نعت کی بابت میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اس کا سوز و گداز وجود کو منور کرتا ہے، اور صاحبِ کلام کی سوچوں کے نقش قاری کو متوجہ کرتے ہیں۔ ظفر اقبال نوری کا درد و سوز کسی آبجو کی طرح پورے دیوان میں نعت در نعت اور مصرع در مصرع خرامِ ناز کرتا محسوس ہوتا ہے۔ نوری جیسے خود جمال پسند اور جمال بھری ادائیں رکھتے ہیں اسی طرح ان کی شاعری کے سینہ میں بھی حُسن دھڑکتا محسوس ہوتا ہے۔ مصحفِ ثنا میں شامل نعوت، نعت برائے نعت، نعت برائے زندگی اور زندگی برائے نعت کا حسین مرقع ہیں۔ کتاب کا آغاز انھوں نے حمد سے کیا ہے جس کا لطفِ لطیف قاری پر وجدانی کیفیت طاری کردیتا ہے۔
——
صبا کے لبوں پر تری گفتگو ہے
مہکتی چمن در چمن مشکبو ہے
مچلتی دلوں میں تری آرزو ہے
جسے دیکھوں اس کو تری جستجو ہے
——
پہلی نعت کا مطلع بھی حُسنِ آغاز او ر بہ توفیقِ ایزدی اوجِ کمال کی خبر دیتا ہے۔
——
یک زباں آج ہوئے نطق و قلم بسم اللہ
دل کی تختی پہ کروں نعت رقم بسم اللہ
——
ظفر اقبال نوری کا یہ نعتیہ دیوان پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنی سوچ، فکر، فن کو ثنائے حبیب خدا میں گم کر دیا ہے۔ ان کے ہاں اپنی کیفیاتِ ہجر اور اشتغاثہ کم اور حضور شاہِ خوباں ک تمدیح و تنعیت زیادہ ہے۔ نعت برائے نعت کی ایک شہکار نعت کے اشعار دیکھیے۔
——
محمد اوّلیں تخلیق یعنی
محمد آخریں تصدیق یعنی
محمد مصطفیٰ متنِ نبوت
ہیں باقی انبیا تعلیق یعنی
وہی خالق کے محبوب و محب بھی
وہ جن کی خلق میں تشویق یعنی
——
پوری کتاب میں ایک تاثر جو بار بار ابھرتا ہے وہ صاحبِ کتاب کی آلِ رسول سے کمال درجے کی عقیدت ہے۔ جسے وہ مختلف پیرایہ اظہار میں بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔
صد شکر کہ منگتا نہیں شاہانِ زمن کا
دامن میں تری آل کی خیرات بہت ہے
——
تیرے حسنین ہوں، حیدر ہوں، کہ زہرا بی بی
تیری نسبت سے ہر اک ذات ہے اعلیٰ افضل
سب وظیفوں سے بڑا کام ظفر نے پایا
بس تری آل پہ صلوات ہے اعلیٰ افضل
بنامِ سیدہ زہرا ہماری ماں کو ملے
لکھا ہوا ہے شفاعت کا جو قبالۂ خیر
رہِ حیات ہے روشن بہ نُورِ آلِ عبا
کہ تیری ذات ہے طہٰ وہ تیرے ہالۂ خیر
——
اہلِ بیتِ رسول اور اصحاب النبی کا ذکر ساتھ ساتھ کرتے ہیں:
——
تیرے اصحاب ہدایت کے ستارے آقا
کشتیٔ نوح سدا تیرے گھرانے والے
——
مصحفِ ثنا کی نعتوں میں قاری کو قرآن اور سیرت کے عنواں پر بھی کئی دل نوا نعتیں نظر آتی ہیں جو قلب و روح پر سرشاری طاری کرتی ہیں۔
——
ترا قرآن تری ذات کی تصویرِ مبیں ہے
تری سیرت ترے قرآن کی تنویرِ مبیں ہے
ترا قرآن تری سیرتِ اطہر کا قصیدہ
تری سیرت ترے قرآن کی تفسیرِ مبیں ہے
——
پھر یہ شعر دیکھیے۔
——
مصحفِ لاریب ہے پُر نور صورت آپ کی
مظہرِ قرآں ہوئی مذکور سیرت آپ کی
——
شعرائے نعت کے ہاں محبتوں، عقیدتوں، اور کیفیتوں کی بہتات ہوتی ہے۔ تلمیحات، استعارات، اور تشبیہات کے آئینے میں حضور کی خوب خوب تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن آپ کی سیرت و صورت، حسن و جمال، رنگ و ادا، دعوت و تعلیم، صدق و امانت، تہذیب و صفات، سیاست و معاش، معجزات و آیات، عدالت و نجابت، حرب و ضرب، وقائع و سراپا، امانت و دیانت، جود و سخا، فضل و عنایت، اور علم و حلم کو تاریخی ضرورتوں کے تحت دامنِ نعت میں سمونے کی بھر پور کوشش نہیں کی گئی۔ ضرورت ہے کہ ’’شاہنامہ اسلام‘‘ کی طرز پر نعتِ رسول کی یہ گراں بہا دولت شعروادب کے دامن میں محفوظ کی جائے۔
میری شاعرِ مصحفِ ثنا کو نصیحت بھی ہے اور دعا بھی ہے کہ منظوم سیرت لکھنے کے جس شعری منصوبے کا اُنھوں نے آغاز کیا تھا اسے مکمل کریں اور نژادِ نو کے لیے تعلیم سیرت کے ذریعے دین اسلام سے گہری وابستگی کا اہتمام کریں۔
ظفر اقبال نوری کی ایک نعت کا یہ مقطع میرے لیے بہت امید افزا ہے
——
اذن کا طالب ہے آقا بندۂ عاجز ظفر
لکھ سکے منظوم اور ماثور سیرت آپ کی
——
میری دلی دعا ہے کہ اللہ کریم ظفر نوری کی یہ کاوش بھی مقبول فرمائے اور اسے منظوم سیرت مکمل کرنے کی بھی توفیق ارزاں فرمائے۔
حضور شاہِ خوباں اس سے راضی ہوں اس پر قرآن و سیرت کی خدمت کے دروازے کھلے رہیں، اور وہ تادمِ زیست وقفِ ثنا و سیرت رہے۔
——
تازہ جہانِ معنی کی صورت گری از ڈاکٹر ریاض مجید
——
نعت آشنا قبیلے کے نعت نگار محمد ظفر اقبال نوری کا زیرِ طباعت مجموعۂ نعت ’مصحفِ ثنا‘ کا کچھ حصہ مرے سامنے ہے یہ نعتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زرّیں دَور ہے جس کے روزافزوں نوری جلوے نہ صرف پاکستان بلکہ اِس سے باہر، دنیا بھر میں اہلِ ذوق کے دلوں کو گرما رہے ہیں نعتوں کے مجموعوں کی اشاعت کے ساتھ ساتھ الیکڑونک میڈیا پر بھی نعت کا شہرہ رو ز بہ روز بلند ہو رہا ہے ’نعت آشنا‘ کے فورم سے معروف جدید نعت نگار اشفاق احمد غوری نے ایک بڑے عقیدتی کام کی ابتدا کر کے تھوڑی مدت ہی میں اسے دنیا بھر کے نعت دوستوں تک پھیلادیا ہے انہوں نے نعت نگاری کے ساتھ اپنا ایک دبستان نعت بھی مرتب کیا جس کے ذریعے ان کے احباب اور ہم خیال شائستگی سے نعت رسول اکرم اور مدح صحابہؓ پر تاریخ ساز کام کر رہے ہیں۔ان کی اور اُن کے رفقائے کار کی یہ مساعی خوش آئند ہے۔
غوری صاحب کے توسط سے محمد ظفر اقبال نوری کے مجموعۂ نعت ’ مصحفِ ثنا‘ کے مطالعے کی سعادت ملی۔ نعت کے رنگِ جدید میں کلام کی پختگی اور تخلیقی مہارت کی ترجمان ان کی نعتیں پڑھ کر خوشی ہوئی ۔
محمد ظفر اقبال نوری کی نعتوں کا مرکزی جذبہ جو ایک شعری استعارہ بن کر ان کی نعتوں میں دمک رہا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک،آپ کی ولادتِ با سعادت، شہرِ مبارک اور نعتِ اقدس سے شیفتگی و عقیدت ہے۔ اس جذبے نے’مصحفِ ثنا‘ میں اظہار یاب ہو کر نوری کی تخلیقی کارکردگی کو مؤثر اور دلپذیر بنا دیا ہے۔نوری کی نعتوں میں شعری زمینوں کی تازہ کاری بھی ہے ہر وہ نعت جو غزل کی ہئیت میں لکھی جائے اپنی زمین (قافیہ، ردیف اور بحر وغیرہ) کے حوالے سے اپنا اعتبار قائم کرتی ہے نعت نگار کی زمینیں جتنی تازہ ہوں گی اُن میں ندرت اظہار کے امکانات بھی زیادہ ہوں گے وہ شعری زمینیں جو ایک صدی سے نعت میں استعمال ہو رہی ہیں یاجو معروف اردو غزلوں کی زمینیں ہیں اُن میں تخلیقی تازہ کاری نا ممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے ایسی زمینیں ان زرعی زمینوں کی طرح ہے جن میں مشاق اور ماہر کاشت کاروں نے بار بار کاشتکاری کی ہوتی ہے۔ جن میں پیدا ہونے والی فصلیں کم و بیش ایک جیسی ہوتی ہیں اور جن میں تازہ کونپلوں، شگوفوں اور تخلیقی فصلوں کے پیدا ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ایسی زمینوں میں شعر کہنا ارتقائے نعت کے سفر میں رفتگاں کے خیالات اور شعری رویوں کی تکرار کے سواکچھ اضافہ نہیںکرتا۔
نوری نے ’’مصحفِ ثنا‘‘ میں تازہ زمینوں سے نعت کے نئے امکانات کی راہ سجھائی ہے یہ زمینیں ان کے تخلیقی عمل میں ایک سچی واردات کی طرح ظاہر ہوئی ہیں ان کی ایک خاص صفت اُن کا بیانیہ ہے۔۔۔ایک معنوی کُل _۔۔۔مطلع سے مقطع کی طرف جاتے ہوئے ایک کیفیت کی ترجمانی۔۔۔ایک ذہنی واردات اور ذہنی کیفیت کی بہ تکرار باز آفرینی تسلسل و تکرار کی دلپذیری سے نوری کی بعض نعتیں (غزلِ مسلسل کی طرح) نعتِ مسلسل ہو گئی ہوں یوں غزل کے اندر نظم کے عناصر نے ان کے جذبہ زیرِ تخلیق کو مربوط اور موثر بنا دیا ہے مثلاً ان کی وہ نعتیں دیکھیں جن کے مطلعے یہ ہیں۔
——
نگاہوں میں چمکتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا
مرے دل میں دمکتا ہے یہ منظر سبز گنبد کا
——
یہ دھڑکنوں کی درود خوانی کوئی اشارہ ہے حاضری کا
صبا کی خوشبو بتا رہی ہے کہ پھر بلاوا ہے حاضری کا
——
مسافرانِ رہِ مدینہ محبتوں کا سفر مبارک
سعادتوں کا نجابتوں کا مسرّتوں کا سفر مبارک
——
ہم فقیروں پر سخی کا پھر کرم ہونے کو ہے
خوش نصیبی پھر ہمارے ہم قدم ہونے کو ہے
——
میں تو کم تر ہوں مری بات ہے اعلیٰ افضل
میری کیا بات بھلا، نعت ہے اعلیٰ افضل
——
اجالوں کا جہانِ بیکراں یہ پیر کا دن ہے
بہاروں میں بہارِ جاوداں یہ پیر کا دن ہے
——
نعتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صنف جس کا بڑا حصہ غزل کی ہئیت میں لکھا جا رہا ہے اس کے لئے ایسا نظم زاد تسلسل خوش آئند ہے اس سے نعت کے امکانات کا دائرہ نہ صرف وسیع ہو رہا ہے بلکہ اس میں بیان کی ندرت و جدّت بھی پیدا ہو رہی ہے واضح رہے کہ علامہ اقبال نے آج سے قریباً ایک صدی پہلے، اپنی معروف نعتیہ نظم ’ذوق شوق‘ میں خاص طور پر ایک ایسا ہی ہئیتی تجربہ کیا تھا اس نظم کے بے ردیف غزل نما مختلف بندوں میں ایک فکری تسلسل اور معنوی ربط ہے اور ہر بند کے آخر میں مطلع کی طرز پر ایک ردیف وار شعر ۔۔۔یوں اس نظم کے مختلف بند مل کر نظم کے مرکزی موضوع کو ایک عظیم نعتیہ فن پارے میں متشکل کرتے تھے۔
نوری کی کئی نعتیں بھی بین السطور ایک ہی جذبے کے تسلسل کا اظہار نظر آتی ہیں۔ ’مصحفِ ثنا‘ کے بیسوں صفحات جومَیں نے ایک نشست میں پڑھے ہیںمجھے ایک ایسے ہی ذہنی اور روحانی سفر نامے کی مختلف منزلوں کا بیان لگتے ہیں جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک اور اسوۂ حسنہ سے شیفتگی اور فدویت سے عبارت ہے اس امر کے اظہار سے میری مراد نُوری کی تخلیقی گرفت کی نشاندہی ہے ۔اُن کے نعت سے متعلق تجربے، سفر مدینہ کی جھلکیاں، صاحبِ نعت سے عقیدت کے تناظرات، شہر رسول جانے، اسے دیکھنے،وہاں قیام کرنے اور واپسی کے بعد بھی روحانی طور پر وہاں رہنے کے تجربات کو انہوں نے بڑے والہانہ انداز میں بیان کیا ہے اس نعتیہ سفر نامے کی چند جھلکیاں ان شعروں میں دیکھئے:
——
مقصودِ نعت نوری ہے مقصودِ جاں کے نام
سانسیں پڑھیں سلام پڑھیں دھڑکنیں درود
——
یہ جو عشّاق ترے طیبہ میں آئے ہوئے ہیں
اپنی تقدیر ترے در پہ جگائے ہوئے ہیں
——
سر پہ رکھے ہوئے ہیں عیب کی گٹھری لیکن
سُن کے جاء وک وہ امید لگائے ہوئے ہیں
——
سارے رستے رہا جآءُوک لبوں پر میرے
سو ظفر میری مناجات ہے اعلیٰ افضل
——
عیدِ میلاد النبّی فَلیَفرَحُوا
فضل کی چادر تنی فَلیَفرَحُوا
——
نوری نے ’مصحف ثنا‘میں جن تراکیب کااستعمال کیا ہے وہ مستعمل اور تازہ یعنی ملے جلے انداز کی ہیں۔ تراکیب کسی بھی نعت نگار کے تخلیقی عمل کی نوعیت، جدّت، اور خوش سلیقگی کی مظہر ہوتی ہیں اکثر تراکیب خیال کے لفظوں سے آمیز ہونے کے ساتھ از خود تخلیقی عمل کا حصہ بن جاتی ہیں پُر معنی اور تازہ تراکیب ندرت کی عطا ہوتی ہیں جو معنوی آفاق اور فکری قطبین کو خیالوں کے دُور دراز منطقوں سے کھنیچ کر نہ صرف قریب لاتی ہیں بلکہ مصرع کی صورت گری میں شامل ہو کر ایک تازہ جہان معنی کی تشکیل کرتی ہیں۔ ’مصحفِ ثنا‘ میں چند تراکیب ملاحظہ ہوں:
غریبِ حرف، وقفِ ثنا،مصدرِ سلام، مظہرِ ودود!،نخیلِ نُور،اشکِ ندامت، طوافِ شوق، شہرِ نور، جہانِ تازہ، قبّۂ اخضر، قریۂ فردوس،لطفِ فشاں، خیر فزا، فضلِ عمیم، خوانِ انعام، خارِ طیبہ، خاکِ انور، زرِ شفاعت،ریاضِ جاں، فرازِ طور،ریاضِ مودّت،رفقِ مجسّم، ذکرِ معنبر،نگاہِ کرم، بارِ مصطفی، شہرِ اطمینان،ریاضِ خلد، گلشنِ نعت، خواہشِ رجعت،شاہِ محبوباں، رحمتِ باری، جوئے سرشاری، درودی ساعتوں، باصرہ افروز، قرآں شِیَم،پہنائیءِ افلاک، مجلسِ میثاق، خطبۂِ لولاک، رمزِ نہاں،مہرِ منیر، ثمرۂ لحظات،مدحِ دوام،صبح بطحا،خامۂ خوشبو رقم، شہرِ شاہِ سروراں، فقیرِ بے نوا، ثنائے نُورِ احمد، نیازِ کیف و کم، حضورِ رحمت مآب،بہارِ جاں فزا، نگارِ دل ستاں، راحتِ قلب وجاں،ساعتِ خوش بخت،نعتِ خیر الانام،بابِ توفیقِ مدح و ثنا،پسِ تسبیحِ کُلّ شیٔ، ظہورِ مصدرِ نطق و بیاں، امید افزا یقین دادہ اجازتوں۔
نوری کی نعتوں میں ایک لاکھ میں چند تراکیب کا محل ِاستعمال دیکھئے:
——
سُرُور و کیف میں ڈوبا ہو دیدہ دیدۂ دل
ثنا و نعت میں رہتا ہو ریشہ ریشۂ دل
انہی کے حسن کا چرچہ ہو جابجا پیہم
انہی کے شوق میں چلتا ہو رحلہ رحلۂ دل
صبا مدینے سے کوئی خبر تو لائی ہے
کھلا کھِلا سا جو لگتا ہے غنچہ غنچۂ دل
تمام ہونے کو نوری ہے دھڑکنوں کا سفر
انہی کی یاد میں زندہ ہے لحظہ لحظۂ دل
——
اس نعت میں قافیے کی تکرار کے ساتھ دل کے ساتھ کیا خوبصورت ترکیب وضع کی گئی ہے۔
’’مصحفِ ثنا‘میں ایک مربوط قطعہ بند نظم بھی بے حس کا ہر بند ’حی علی الثنا‘ کے صلا آمیز اعلان پر ہوتا ہے۔مجھے نوری صاحب کی اس نظم کو پڑھ کر بہت خوشی ہوئی ’نعت آشنا‘ اور ایسی سینکڑیں تنظیمیں، فورم، اکادمیاں، رسائل اور ادارے آج نعت نگاری کے جذبے کو جس طرح ایک مشن کی طرح عام کر رہے ہیں ۔ یہ صنفِ نعت اور صاحبِ نعت صلی اللہ علی وسلم سے عقیدت و محبت کا ایک مبارک اظہار ہے نوری نے اس صلائے خیر کو بڑی خوبصورت اور موثر پیرائے میں اظہار کیا ہے اس نظم کا یہ بند دیکھئے:
——
جاری ہے وہ ازل سے ہی ذکرِ نبی کی رُود
روحوں میں ہے اٹھاتی جو یادِ نبی سرُود
تسکینِ قلب و جان ہے یہ نغمۂ درُود
برپا ہے ہر جہان میں اک مجلسِ ثنا
حی علی الثناء حی علی الثناء
——
( میرا ایک پنجابی نعتیہ مجموعہ ’حی علی الثنا‘ (مطبوعہ نعت اکادمی فیصل آباد۱۹۹۱ء) جو مساوی الاوزان مصرعوں پر مشتمل ہائیکو کی صورت میں تھااس کے ایک ہائیکو کے دو مصرعے دیکھئے)۔
——
بیٹھ کے شاعراں دے حلقے وچ
بانگ حی علی الثنا دی دے
——
اسی خیال کو مَیں نے اپنی ایک نعت (اللھم صلی علی محمد۔مطبوعہ،۱۹۹۱ء) کے مقطع میں یوں کہا تھا۔
——
کم سوادوں سے کہوں حی علی النعت ریاض
محفل شاعری میں نعت اذاں ہو میری
——
یہ تین چارعشرے پیشتر کی بات ہے۔ اقبال نوری صاحب کی یہ نظم پڑھ کر اندازہ ہُوا کہ اور بہت سارے نعت نگار بھی اپنی تخلیقی کارکردگی کے ساتھ فروغِ نعت کے کام میں بھی کوشاں ہے۔
نوری کے نعتیہ مضامین و موضوعات میں ایک حصہ صحابہ کرام اور اہلِ بیت اطہار کا ہے ان نفوسِ قدسیہ کے مناقب ہر دور کی نعت نگاری کا حصہ رہے ہیں۔فی زمانہ ہر وہ نعت جو مسلکی شدّت بیانی سے پاک ہو اُس کا مطالعہ خوش آئند ہوتاہے آل اطہار واصحاب کرام طائر نعت کے مضامین و موضوعات میں پروں کی مانند ہوتے ہیں احترام و عقیدت سے دونوں کا تذکار مبارک نعت کے معنوی باطن کو بھی تابناک اور پُر تاثیر بنا دیتا ہے ۔ نعت اپنے حوالے سے کسی بے ادبی کے ہلکے سے احتمال کی بھی متحمل نہیں ہو سکتی ہے یہ سراپا ادب اورہمہ صف احترام ہے اس میں آنے والے الفاظ ، مضامین، موضوعات، شخصیات، رجال، اماکن اور دوسرے فکری و فنّی تناظرات اپنے لکھنے والے سے جس شرافت، دیانت، خوش خصالی اور شائستگیٔ اظہار کا تقاضا کرتے ہیں مقامِ مسّرت ہے کہ وہ آج کے ظفر اقبال نوری جیسے ذمہ دار احبابِ نعت میں موجود ہے۔ نوری نے اپنی نعتوں میں جہاں کہیں ان کا ذکر کیا ہے بڑے ادب و احترام اور شرعی حدود پیشِ نظر رکھتے ہوئے کیا ہے وہ اس میں افراط و تفریظ کا شکار نہیں ہوئے یہ نمونہ ملاحظہ ہو۔
——
پایا ہے خاص مرتبہ قربِ رسول میں
پہلو میں محوِ خواب ہیں یارانِ مصطفی
——
اس کے قاتل ہیں خجل خوار زمانے بھر میں
تیرے شبیر کی ہی ذات ہے اعلیٰ افضل
نوری کی نعت عصری حیثیت سے جڑی ہوئی ہے گزشتہ دو سالوں سے کرونا نے جس طرح امت مسلمہ اوربنی نوع انسان کو جسمانی اور روحانی عزیّتوں میں جکڑا ہے یہ آج کا بہت اہم موضوع ہے اگرچہ ہماری نعت میں اس کا بہت کم استعمال نظر آتا ہے لیکن اس دَور میں زائرین کے لئے جس طرح مسجد الحرام اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے بند ہوئے ہیں وہ عامۃ المسلمین کے لئے خوں رلا دینے والا سانحہ ہے تصویروں اور ٹیلی ویژن کی سکرین پر حرمین شریفین کی فضا کی اداسی اور خالی پن انتہائی اذیت ناک مناظر لئے ہوئے ہے یہ حزنیہ مناظر جانے کب تخلیقی انداز میں نعت کا حصہ بنیں؟اقبال نوری نے اپنی ایک نعت میں اس کی بھی عکاسی کی ہے یہ شعر دیکھئے:
——
ہیں مریضِ غم ترے بندگاں جو گھروں میں بند ہیں بے گماں
وہ پسارے بیٹھے ہیں جھولیاں کہ شفا کی بھیک تُو ڈال دے
جو ہوئیں خطائیں معاف کر ، تُو بحال پھر سے مطاف کر
مری روح وقفِ طواف کر ، یوں ظفر کو حسنِ قال دے
——
اپنی رحمت کی اک نظر ڈالیں
غم سے اُمّت نڈھال ہے آقا
——
’مصحفِ ثنا‘ کا انداز ِنعت گوئی شائستہ اور سنبھلا ہُوا ہے نعتیہ مضامین و موضوعات سے ان کی تخلیقی ترتیب کاری (Treatment)تازگی لئے ہوئے ہے۔ان کی نعتوں میں محاکات اور دوسرے محاسنِ شعری کی کچھ مثالیں دیکھئے:
——
کون لائے گا بھلا اُن کی بصیرت کا جواب
خاکِ رہ تیری جو آنکھوں میں لگائے ہوئے ہیں
——
یہی ہے صَوت پہ لازم کی اپنی حد میں رہے
کبھی جو بولنا چاہے وہ رُو بروئے رسول
——
وقفِ ثنا ہوئے تو ہوئے لفظ معتبر
نعتوں کی یہ نیاز ہے فیضانِ مصطفی
——
کہکشاں شمس و قمر راہوں میں ایسے بچھ گئے
آسماں جیسے زمیں کو چومنے آنے لگا
——
بہ حیثیت مجموعی نوری کی ’مصحف ثنا‘اردو کے معاصر نعتیہ منظر نامے میں ایک خوشگوار اضافہ ہے مقام اطمینان ہے کہ فی زمانہ اگر معمول کی نعت زیادہ ہو رہی ہے تو کہیں کہیں تازہ تخلیقی تجربوں پر استوار نئے نعت پارے بھی پڑھنے کو مل رہے ہیں مقصود علی شاہ اور اشفاق احمد غوری کو بہت بہت مبارک کہ’نعت آشنا‘ کے فورم سے نوری جیسے سلیقہ شعار نعت نگار کا ظہور ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ نوری کی توفیقات نعت میں اضافہ فرمائے اور وہ اسی تسلسلِ ذوق سے صنفِ نعت کی آبیاری کرتے رہیں (آمین) مَیں اپنے اثرات اس رباعی پر ختم کرتا ہوں۔
دُریاب، ہو نعتیہ عقیدت اُس کی
ہو بار ورِ جزا‘ ریاضت اس کی
مبروک‘ ہو مصحفِ ثنا نُوری کی
مقبول جہان میں ہو مدحت اُس کی
——
قطعہ ہائے تاریخ ہجری
نوری ثنا رقم کے واسطے
سورہ برات مصحفِ ثنا
۱۴۴۳ھ
اس کے گلستانِ بخت میں
طائرِ نجات مصحفِ ثنا
۱۴۴۳ھ
عیسوی تاریخ
اخلاص سرشت ہے وِلا نُوری کی
ہے اور ہی طرح کی نوا نوری کی
سب دوست پکار اٹھیں گے ماشاء اللہ
جو دیکھ لیں ’’مصحفِ ثنا‘‘ نوری کی
۲۰۲۱ء
حرفِ عجز و تشکّر
خاکِ راہِ ثنا گراں : محمد ظفر اقبال نوری
——
اللہ رب العالمین جلّ جلالہٗ جس کے لیے ہر حمد، ہر ثنا، ہر تعریف ہے۔ہر شے جس کی تسبیح پڑھتی ہے۔ ہر مخلوق جس کی حمد کرتی ہے۔ ہر جاندار و بے جان، ہر ذی روح و بے روح وجود جس کی حمد میں ہے۔ کوئی نطق و بیان سے اور کوئی زبانِ حال سے اس کی تعریف کرتا ہے، اور وہ خود اپنے محبوب، اپنے ممدوح، اپنے رسول، اپنے پیمبر سراپا حُسن و خوبی، شاہِ خوباں، خواجۂ گیہاں، صاحبِ محامدِ کثیرہ حضرت محمد کی مدح کرتا ہے، اور جب خالقِ کائنات اس ممدوحِ کائنات کی مدح و ثنا کرتا ہے تو پھر ساری مخلوق اس کائناتِ حسن اور حُسنِ کائنات کے لیے مصروفِ ثنا ہو جاتی ہے۔ بے جان پتھر کلمۂ شہادت کا ورد کرتے ہیں اور شجر بلا قدم چلتے ہوئے حاضرِ بارگاہِ ممدوحِ کائنات ہوتے ہیں۔ جنگل کی ہرنی اور اونٹ اس سے باتیں کرتے ہیں اور آسمان کے شمس و قمر اس ممدوح و متبوعِ خلق کے اشاروں کی بھی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ بنی نوع انسان اشرف المخلوقات ہے اور نوعِ انسانی میں ممتاز ترین طبقہ انبیاء و رسل ہیں، اور اس قافلۂ پیغمبراں کا ہر فرد اپنے اپنے دورِ نبوت میں اسی محبوبِ خالق رسولِ اعظم و آخر کی مدح و ثنا کے ساتھ اُس کے آنے کی خوش خبریاں دیتا ہے، اور پھر اس وجہِ تخلیقِ کائنات ، ممدوحِ ربِ شش جہات علیہ الصلوٰۃ والتسلیمات کی ولادت وبعثت کے عصرِ نور میں اپنے بیگانے سب اس کی تعریف و توصیف اور مدح و ثنا سے سرفراز ہونے لگتے ہیں۔محبوبِ ربِ انس و جاں، ممدوحِ عالمیاں کے اہلِ بیتِ اطہار اور اصحابِ کبار کی نور ٌ علیٰ نور زبانوں سے مدح و ثنائے حبیب کے پھول جھڑنے لگتے ہیں۔۱۸۱ یا بعض روایات کے مطابق دوسو کے لگ بھک صحابہ کرام جن میں ۱۸ صحابیات بھی شامل تھیں، ثنائے رسول کا شرف پاتے ہیں۔ ان سب میں کعب بن زہیر، عبداللہ بن رواحہ اور حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہم اس قافلۂ مدحت گرانِ پیمبر کے ممتاز ترین نفوسِ قدسیہ ہوتے ہیں۔ ان میں سے بھی جب حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اَللّٰھُمَّ اَیّدْہٗ بِرُوحِ القُدُس کی دعائے نبوی سے فیض یاب ہوتے ہیں تو ان کا نام مدحِ نبی کا استعارہ بن جاتا ہے اور وہ بعد کے زمانوں میں طبقۂ نعت نگاراں کے مقتدیٰ بن جاتے ہیں۔ ازاں بعد عربی و فارسی، ترکی، اردو اور بلادِ اسلامیہ میں بولی جانے والی ہر بولی میں نعت رقم ہونے لگتی ہے۔ تو یہی حسّانی آہنگ اور اسلوب اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ مدحیہ شاعری اور نعتیہ ادب عشق و آدابِ محمد اور عجزو نیاز کے سانچوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ ہر ثنا گو یہی سمجھتا ہے کہ کمالِ فن، جمالِ سخن اور لطافتِ ہنر کے باوجود وہ ثنائے محمد کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ بقول حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ یہ عقیدہ بن جاتا ہے۔
——
مَا اِنْ مَّدَحْتُ مُحَمَّداً بِمَقَالتی
لٰکِن مَدَحْتُ مَقَالَتِی بِمُحمَّدٖ
——
اسی بات کو اپنے پیرائے میں استاد غالب یوں کہتے ہیں۔
——
غالب ثنائے خواجۂ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمد است
——
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ شانِ ممدوحِ خدا کے حضور اظہارِ عجز یوں کرتے ہیں۔
——
لا یمکن الثناء کما کان حقہٗ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
——
مدحِ نبی کی یہ تابناک روایت جب اردو زبان میں پہنچی تو اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ یوں گویا ہوتے ہیں ۔
——
اے رضا خود صاحبِ قرآں ہے مدّاحِ رسول
تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسول اللہ کی
——
الطاف حسین حالی رحمۃ اللہ علیہ کو یوں کہتے ہوئے سنا گیا۔
——
حریفِ نعتِ پیمبر نہیں سخن حالی
کہاں سے لائیے اعجاز اس بیاں کے لیے
——
اور پھر ہمارے عہدِ قریب کے درویش منش عظیم ثنا گو حافظ افضل فقیر حسّانی روایت کو دہراتے ہیں۔
——
کیا فکر کی جولانی کیا عرضِ ہنر مندی
توصیفِ پیمبر ہے توفیقِ خداوندی
——
کاروانِ نعت کے ایک اور حُدی خواں استاذالشعراء حضرت حفیظ تائب رحمتہ اللہ علیہ عرض کرتے ہیں۔
——
کتنا بڑا کرم ہے تائب سا بے ہنر
توصیفِ مصطفیٰ کے لیے چن لیا گیا
——
درجنوں مجموعہ ہائے نعت کے مصنف نعت نگار، نقاد، اور منظوم سیرت نگار، شاعرِ نعت راجا رشید محمود مرحوم بھی اپنی بے بسی کا اقرار کرتے ہیں۔
——
نعت بھی کہتا چلا جاتا ہوں میں
بے بسی کا بھی شدید احساس ہے
محمود ہے ممد مری عجزِ کلام سے
پندارِ نعت گوئی سے جو ماورا ہے نعت
——
عہدِ حاضر کے عظیم صاحبِ اسلوب ثنا گر شاعرِ ندرت سید مقصود علی شاہ اظہارِ عجز یوں کرتے ہیں۔
——
یہ گرفتہ دل ، یہ شکستہ پا ، یہ حروفِ عجز کا ملتجی
ترے پاس لایا ہے لغزشیں ، تُو نواز نعت کی نوکری
——
قارئین! اس تمہیدِ طولانی پر اس غریبِ حرف بندۂ عاجز کو معاف فرمائیں کہ میری غرض محض یہ تھی کہ شاعرِ دربارِ رسالت حضرت حسّان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے لے کر آج تک ہر ثنا گو یہی کہتا آیا ہے کہ یہ میرے حرفوں کا کمال نہیں۔ یہ نعت توفیقِ خدا اور فیضانِ مصطفیٰ کی جلوگری ہے۔ میرا اوّلین مجموعۂ نعت ’’مصحفِ ثنا‘‘ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔اس میں جو بھی حرفِ ثنا آپ کے ذوقِ ثنا کو محظوظ کریں تو سمجھیں کہ یہ آقائے کریم علیہ اصلوۃ والتسلیم کی عطا ہے اور جہاں جہاں آپ کمی کا پہلو دیکھیں اسے میری بے بسی اور معذوری پر محمول کریں۔ باقاعدہ شاعر تو میں کبھی بھی نہیں رہا البتہ موزوں طبیعت پرور دگارِ لوح و قلم کا عطیہ ہے۔ قومی اور ملّی درد کی ٹیس جب کبھی سینے میں محسوس ہوئی تو اس نے کسی نظم کا روپ دھارا اور للہ الحمدکہ انجمن طلبہ اسلام اور مصطفائی تحریک کے میرے ساتھیوں نے اسے پسند بھی کیا اور محافل میں اسے بار بار پڑھا اور اسے بار بار دہرایا بھی گیا۔ نعت میں میرا کل خزانہ ایک نعت تھی۔
——
سانسیں پڑھیں سلام پڑھیں دھڑکنیں درود
حاصل مجھے وہ لذتِ عشقِ رسول ہو
بن جائے کیوں نہ قبلۂ اہلِ نظر وہ دل
جس دل پہ تیرے مصحفِ رُخ کا نزول ہو
دامن میں اس فقیر کے نقدِ عمل کہاں
اک آرزو ہے آپ کی للہ قبول ہو
——
اور یہی اکلوتی نعت مرے شیخ تربیت استادی المکرم مفسرِ قرآن حضرت پیر سید ریاض حسین شاہ، محافلِ ذکر میں اکثر مجھ سے سنا کرتے تھے۔ یہ تو محبِ گرامی شاعرِ ندرت سید مقصود علی شاہ صاحب کی برکت بار صحبتِ فکری اور ممتاز ثنا گو دوستِ گرامی الحاج نور محمد جرال صاحب کی دوستی کا فیض ہے کہ ڈیڑھ دو سال قبل اس فقیر پر بھی باقاعدہ نعت نگاری کا در کھلا اور پھر ہوتے ہوتے یہ نعتیہ مجموعہ ’’ مصحفِ ثنا‘‘ تیار ہوگیا۔
اپنی زندگی کے گزرے ایام پہ نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اپنے سائبانِ کرم دادا جان مرحوم چوہدری علی محمد رحمۃ اللہ علیہ یاد آتے ہیں جن کی محبتوں نے حبِ نبی کی چنگاری سلگائی اور ذوقِ نعت بھی عطا کیا۔ میں پرائمری سکول ہی سے ان کے پاس بیٹھ کر بانگ درا، ضربِ کلیم، دیوانِ حافظ، دیوانِ جامی اور دائم اقبال دائم کی لکھی گئی منظوم سیرت کمبل پوش سنتا اور سناتا تھا۔ حضرت اعلیٰ سید نا پیر مہر علی شاہ گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق نعت’’اج سک متراں دی ودھیری اے‘‘ تو ان کا صبح و شام کا وظیفہ تھا۔ اسی سے میری زمینِ دل میں ثنا گری کے بیج کاشت ہوئے۔ میرے عمِ کریم جدید عہد میں قدیم روایت کے مظہرِ عظیم صوفی پروفیسر محمد حسین آسی رحمۃ اللہ علیہ (خلیفہ مجاز علی پور شریف) نے اس فصلِ نورستہ کی آبیاری کی اور پھر میرے استاذی المکرم مفسرِ قرآن حضرت پیر سید ریاض حسین شاہ صاحب کی شفقت و پذیرائی نے اسے سر سبزی و شادابی بخش دی۔
میں اپنے خالق و مالک کے فضل و کرم اور اپنے آقا و مولا کے لطف و عطا پر سراپا سپاس و تشکر ہوں کہ اک فقیرِ بے نوا کے حرفِ بے وقعت کو مدح نبی نے باوقار بناد یا۔
ابلاغِ فکرِ قرآن، فروغِ عشقِ رسول اور تربیت و اصلاح نژاد نو کے داعی مفکرِ اسلام مفسر قرآن علامہ پیر سید ریاض حسین شاہ صاحب مدظلہٗ کی بندہ پروری کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اپنے قلمِ گوہر بار سے ’’مصحفِ ثنا‘‘ پر تقریظِ لطیف لکھ کر مجھے سند اعزاز عطا فرمادی۔ اور میرے حروف کی بارگاہِ شاہِ خوباں میں قبولیت کا سامان فراہم کیا۔ عصرِ حاضر میں زبان و قلم کی آبرو، قبیلۂ مدحت گرانِ پیمبر کے قافلہ سالار، منفرد نعت گو اور نقاد ڈاکٹر ریاض مجید صاحب نے کمال محبت اور اصاغر نوازی فرماتے ہوئے ایک قابلِ قدر اور وقیع مقدمہ رقم فرمایا۔ ان کا بھی میں شکر گزار ہوں۔ اپنے محبّ و ممدوح دوستِ گرامی سید مقصود علی شاہ صاحب کا بے حد شکر گزار ہوں کہ انھوں نے نہ صرف وادیٔ نعت میں میرے شوقِ سفر کو مہمیز دی بلکہ مصحف ثنا پر اپنے گراں قدر الفاظ سے میری حوصلہ افزائی فرمائی۔ معرف عالمِ دین اور ممتاز ثناگر حضرت علامہ نصیر احمد سراجی صاحب نے بھارت سے حوصلہ افزا حروفِ تحسین سے نوازا۔ مخدوم و محترم ڈاکٹر معین نظامی اور ممتاز ثنا گو اور ثنا خواں دوستِ عزیز سرور حسین نقشبندی صاحب اور میرے دیرینہ کرم فرما محبِ گرامی میدان نعت کے فردِ فرید الحاج نور محمد جرال صاحب نے خوبصورت فلیپ لکھ کر نعتیہ مجموعے کے وقا ر میں اضافہ فرمایا۔شاعرِ جمال، دوستِ عزیز سید الطاف بخاری اور ان سب کا شکر گزار ہوں۔
’’مصحفِ ثنا‘‘ کی اشاعت کے حوالے سے میں عصرِ حاضر میں قافلۂ مدحت گرانِ پیمبر کے سرخیل، تین بار صدارتی ایوارڈ یافتہ نعت نگار محبِ گرامی جناب اشفاق احمد غوری صاحب کا بے حد ممنون ہوں کہ ان کی محبت، محنت، توجہ اور اخلاص کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔ میرے محبّ و مخلص دوستانِ عزیز چوہدری اکرام چٹھہ صاحب، چوہدری افتخار ججہ صاحب اور زاہد چوہدری صاحب بھی شکریہ کے مستحق ہیں جنھوں نے ہر ہرمرحلے پر میرا ساتھ دیا۔ ہمارے حلقۂ احباب کے لیے دعاؤں کا خزینہ محبّ گرامی تنویر احمد رانا صاحب اور بزرگ دوست ملک جلال صاحب ،اپنے مخلص و با وفا رفقاء حافظ عبد الاحد ہاشمی صاحب اور حافظ محمد منیر صاحب کا شکر گزار ہوں۔میں اپنے دیرینہ رفقا خواجہ صفدر امین، شیخ طاہر انجم، عابد قادری کا بھی شکریہ ادا کرتا ہو ںجنھوں نے ہمیشہ میری تحریری کاوشوں کو سراہا اور ان کی اشاعت کا اہتمام کرتے رہے۔ دوستِ مہربان ڈاکٹر تسلیم اختر قریشی، دوست کریم ممتاز دانش ور اور محقق ڈاکٹر سید طاہر رضا بخاری ڈی جی اوقاف پنجاب، پیکرِ اخلاص سراپا شفقت میاں فاروق مصطفائی درویش صفت رفقا احباب احمد وقار مدنی اور ڈاکٹر حمزہ مصطفائی دوست گرامی قدر غلام مرتضیٰ سعیدی امیر مصطفائی تحریک کا بھی احسان مند ہوں۔
محبِ گرامی منیر احمد مغل( چیئرمین المصطفٰی ٹرسٹ انٹرنیشنل یو کے)کا بھی مشکور ہوں ۔
میں اپنی تمام بھائیوں، بہنوں، برادرانِ نسبتی کا شکر گزار ہوں جنھوں نے عمر بھر مجھے اپنی محبتوں اور مخلصانہ دعاؤں سے نوازا۔ بطورِ خاص میں اپنے چھوٹے بھائی حافظ محمد عمران کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس کی محبت ہمیشہ میری خدمت گر رہی اور اس نے ماں باپ اور بہنوں بھائیوں کی خدمت کر کے مجھے اس فرض سے سبکدوش کیے رکھا۔ سب سے بڑھ کر میری اہلیہ میری شریکِ حیات میری مونس و دمساز میمونہ فاطمہ کا شکریہ جو میرے کلام کی اولین سامعہ ہے۔ جس نے قناعت، ایثار، اخلاص اور محبت سے میری گھریلو زندگی کو جنت آثار بنا رکھا ہے۔
آخر میں میری گزارش ہے کہ میرے والدِ بزرگوار چوہدری محمد اسلم صاحب کی صحت کے لیے دعا کریں اللہ کریم صحت و سلامتی کے ساتھ ان کا سایہ ہم پر دراز فرمائے رکھے۔ میرے نطق و بیان اور کتاب و قلم کے سارے اعزاز انہی کی ترغیب اور دعاؤںں کا ثمر ہیں۔ میرے چچا جان چوہدری محمد اشرف قمر صاحب کو بھی اللہ کریم صحت دے جن کی شفقت اور محبت کے بغیر میں زندگی میں کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ میری والدہ، دادی اماں اور دادا جان مرحوم کی بلندیٔ درجات کے لیے دعا فرمائیں کہ ان ہستیوں نے ہمیشہ مجھے اپنی کریمانہ دعاؤں کے حصار میں لیے رکھا۔ میں اپنا یہ پہلا مجموعۂ نعت ماہِ بہاراں ربیع الاول شریف میں انہی کے ایصال ثواب کے لیے پیش کر رہا ہوں۔
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ