اردوئے معلیٰ

مصطفیٰ کے کوچے میں نور کے بسیرے ہیں

 

مصطفیٰ کے کوچے میں نور کے بسیرے ہیں

صبح و شام روضے پر قدسیوں کے پھیرے ہیں

 

ہر مقام روشن ہے صبح و شام روشن ہے

شش جہات طیبہ میں روشنی کے گھیرے ہیں

 

احتیاط سے چلنا دھیرے سے قدم رکھنا

ہر قدم پہ بطحا میں نوریوں کے ڈیرے ہیں

 

اس دیار میں دیکھوں کوئے یار میں دیکھوں

باقی زندگانی میں جس قدر سویرے ہیں

 

دُور اب تو ہر غم ہے یہ خوشی ہی کیا کم ہے

ہم غلام تیرے تھے ہم غلام تیرے ہیں

 

مال و زر نہیں رکھتا پھر بھی ڈر نہیں رکھتا

کیونکہ شاہِ بحر و بر مصطفیٰ تو میرے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ