اردوئے معلیٰ

مظہر حسنِ یقیں ہیں سیدی نواب شاہ

جلوۂ نور مبیں ہیں سیدی نواب شاہ

 

عقل کی فطرت میں شامل ہی نہیں ہے فیصلہ

دل یہ کہتا ہے یہیں ہیں سیدی نواب شاہ

 

معتقد ہونا پڑا مجھ کو نگاہ شوق کا

جس جگہ دیکھا وہیں ہیں سیدی نواب شاہ

 

ہو گئیں خیرہ نگاہیں دیکھ کر حسن و جمال

چاند تاروں سے حسیں ہیں سیدی نواب شاہ

 

مطمئن ہے منزلوں سے آپ کا اک اک غلام

رہبر دنیا و دیں ہیں سیدی نواب شاہ

 

اب بہکنے اور بھٹکنے کا نہیں اٹھتا سوال

ہم سے غافل تو نہیں ہیں سیدی نواب شاہ

 

جسکو جو چاہیں عطا کرتے ہیں دست فیض سے

رحمت حق سے قریں ہیں سیدی نواب شاہ

 

گوہر مقصود سے بھرتے ہیں سب کی جھولیاں

غم کے ماروں کے معیں ہیں سیدی نواب شاہ

 

انکے در پر ہی جبین شوق جھکتی ہے مری

میرا ایمان و یقیں ہیں سیدی نواب شاہ

 

جس کو دیکھو کہہ رہا ہے وہ زبانِ حال سے

ہاں امام العارفیں ہیں سیدی نواب شاہ

 

بقعۂ انوار ہے اے نورؔ یوں میرا وجود

چشم و دل میں جا گزیں ہیں سیدی نواب شاہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات